حیدرآباد (دکن فائل) کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مرکزی حکومت سے ان 12 ہندوستانیوں کو واپس لانے کی اپیل کی جنہوں نے روزگار کی تلاش میں بیرون ملک گئے اور وہاں ایجنٹوں کی جانب سے انہیں دھوکہ دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق حیدرآباد کے نامپلی بازار گھاٹ میں رہنے والے محمود اسفان گزشتہ سال ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے ساتھ مزدوری کے لیے خلیجی ملک گئے تھے۔ وہاں جانے کے بعد مقامی ایجنٹوں نے زیادہ تنخواہ کا لالچ دیکر انہیں روس بھیج دیا، اب وہ تمام 12 ہندوستانی وہاں روسی فوج میں سکیورٹی ورکر کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد گزشتہ سال 31 دسمبر کو روسی فوج کی جانب سے ان 12 ہندوستانی شہریوں کو یوکرین بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ 12 ہندوستانیوں کے افراد خاندان یہاں پریشان ہیں۔ نامپلی کے اسفان کے اہل خانہ نے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی سے ملاقات کرکے اس معاملہ رجوع کیا جس کے بعد اسدالدین اویسی نے ان تمام 12 ہندوستانی شہریوں کی ملک واپسی کےلئے مناسب انتظامات کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ یوکرین میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کا تعلق تلنگانہ کے حیدرآباد کے علاوہ کرناٹک، گجرات، یوپی اور جموں و کشمیر سے ہیں۔
دی ہندو کی رپورٹس کے مطابق روسی فوج کی طرف سے سرحد پر یوکرین کی فوج کے خلاف لڑنے والے ایک ہندوستانی شہری نے بتایا کہ ایک ایجنٹ نے انہیں دھوکہ دے کر آرمی سیکیورٹی ہیلپر کی حٰثیت سے سرحد پر بھجوادیا۔ 18 سے زائد ہندوستانی شہری نومبر 2023 سے یوکرین کے خلاف جنگ میں روسی فوج کی معاونت کر رہے ہیں۔ اسدالدین اویسی نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ماسکو میں ہندوستانی سفارت خانے کو خط لکھا کر ہندوستانی شہریوں کو ملک واپس لانے کا مطالبہ کیا۔


