عامر علی خان اور کودنڈا رام کی بطور ایم ایل سی نامزدگی کو ہائیکورٹ نے منسوخ کردیا

حیدرآباد(دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے گورنر کوٹہ کے تحت ایم ایل سی کی تقرری پر ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے ہدایت دی کہ ایم ایل سی کے نام دوبارہ کابینہ میں تجویز کیے جائیں اور گورنر کو بھیجے جائیں۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ایم ایل سی کی نامزدگی دوبارہ کی جائے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ گورنر کے پاس ڈی شراون اور ستیہ نارائن کی تقرری کو منسوخ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اسے کابینہ کو واپس بھیجا جائے اور اسے مسترد نہ کیا جائے۔ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں پروفیسرکودنڈارام اور عامر علی خان کی نامزدگی کو منسوخ کردیا ۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے دو ایم ایل سی کی نامزدگی پر سی ایم ریونت ریڈی کی حکومت کے ذریعہ جاری کردہ گزٹ کو خارج کردیا۔ دونوں ایم ایل سی کی نازدگی کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ گورنر کو وزراء کونسل کے فیصلے کی پابندی کرنی چاہیے۔ ہائی کورٹ نے گورنر کو ڈی شراون اور ستیہ نارائنا کی نامزدگیوں پر نظر ثانی کرنے کا حکم دیا۔ ہائی کورٹ نے گورنر کو نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

قبل ازیں بی آر ایس حکومت نے ڈی شراون اور ستیہ نارائن ان کے نام منظوری کے لیے گورنر تملی سائی کو بھیجے تھے تاہم گورنر نے اس بات سے انکار کیا کہ ان دونوں کے پاس گورنر کے کوٹہ کے تحت ایم ایل سی کے طور پر نامزد ہونے کی کوئی اہلیت نہیں ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے اور نئی حکومت تشکیل پائی۔

وہیں ڈی شراون اور ستیہ نارائنا نے اس معاملہ کو ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سابقہ ​​بی آر ایس حکومت نے انہیں آرٹیکل 171 کے تحت ایم ایل سی کے طور پر نامزد کیا تھا۔ بتایا گیا کہ گورنر کو کابینہ کے فیصلے کو مسترد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

یہ معاملہ ابھی عدالت میں زیردوراں تھا کہ کانگریس حکومت نے گورنر کوٹہ کے تحت ایل سی کی نامزدگی کےلئے پروفیسرکودنڈا رام اور عامر علی خان کے نام تجویز کئے، جسے گونر نے منظوری بھی دے دی تھی تاہم ہائیکورٹ نے ان دونوں کی حلف برداری پر روک لگادیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں