ٹینک بینڈ پر میلاد جلوس، پرانے ویڈیو کو شیئر کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی سازش، پولیس کاروائی ندارد

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد سٹی پولیس نے آج ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے جو میلاد جلوس کے ایک پرانے ویڈیو کو جھوٹے دعووں کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل کررہے ہیں۔ حیدرآباد کے ٹینک بینڈ پر میلاد جلوس کے پرانے ویڈیو کو جھوٹے دعوؤں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کچھ شرپسند عناصر اسے حالیہ ویڈیو بتارہے ہیں اور کیپشن میں مسلمانوں کے خلاف خوب نفرت انگیزی کی جارہی ہے۔

فرقہ پرستوں کی جانب سے بڑے پیمانہ پر شیئر کئے جارہے ویڈیو میں یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے نکالے جانے والے جلوس کی وجہ سے ٹینک بینڈ پر ٹریفک مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور جلوسیوں کو رضاکار بتایا جارہا ہے۔ فرقہ پرست و شرپسند عناصر ویڈیو کے کیپشن میں پہلے تو مسلمانوں کے خلاف خوب نفرت بھڑکارہے ہیں اور اشاروں اشاروں میں بھگوا پارٹی کو ووٹ دینے کی بات کہہ رہے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھگوا پارٹی کی کارستانی اور سازش ہے تاکہ ہندو مسلم نفرت کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کئے جاسکے۔ فرقہ پرست طاقتیں اس طرح کی اوچھی حرکتوں کے ذریعہ تلنگانہ میں اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہیں۔ پولیس کو چاہئے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں بدنام کرنے والوں پر سخت کاروائی کی جائے۔

جھوٹے دعوؤں پر مشتمل ویڈیو پر حیدرآباد پولیس نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پولیس نے ٹوئٹ کیا کہ ‘یہ گزشتہ سال کے میلاد النبی فیسٹیول کا پرانا ویڈیو ہے۔ اس معاملہ میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ ہماری درخواست ہے کہ فرضی و جھوٹی معلومات نہ پھیلائیں۔ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی‘ ۔

واضح رہے کہ اس طرح کی حرکت اگر کسی دوسرے فرقہ کی جانب سے کی جاتی تو اب تک حیدرآباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں متعدد نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور بڑی تعداد میں گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی حرکت کرنے والوں کا تعلق چونکہ سنگھ پریوار سے ہیں تو پولیس بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پولیس کی جانب سے اس معاملہ میں ٹوئٹ تو کیا گیا لیکن کوئی کاروائی اب تک نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں