حیدرآباد (دکن فائلز) بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے حیدرآباد میں رام نومی کے موقع پر آکاش پوری ہنومان مندر دھول پیٹ سے نکالی گئی شوبھا یاترا کی قیادت کی۔ یہ یاترا مختلف راستوں سے گذرتے ہوئے ہنومان ویام شالہ کوٹھی پر اختتام کو پہنچی۔ یاترا کے دوران جگہ جگہ انتہائی نفرت انگیز گانے بجائے گئے اور خود راجہ سنگھ نے یاترا کے موقع تھوڑی تھوڑی دیر سے اپنی رتھ سے خطاب کررہے تھے۔ اس دوران انہوں نے اشتعال انگیز گانے گائے، نعرے لگائے اور جم کر ہندو مسلم کیا۔ راجہ سنگھ نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنی نفرت انگیز و اشتعال انگیز تقریر میں متعدد مرتبہ ’ہندو، مسلم، بابری مسجد، مندر، جہاد، کاشی، پاکستان، متھرا‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ایک فرقہ کے جذبات کو بھڑکانے کی مبینہ کوشش کی۔ انہوں نے اویسی برادران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے اور پولیس کے خلاف بھی اپنی بھڑاس نکالی۔
شوبھا یاترا میں حیدرآباد حلقہ سے بی جے پی امیدوار مادھوی لتا نے شرکت کی۔ حیدرآباد پولیس کمشنر سرینواس ریڈی کی نگرانی میں پولیس کا بھاری بندوبست کیا گیا تھا۔ نہ صرف جلوس کے مقامات پر بڑی تعداد میں سیکوریٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا بلکہ شہر کے دیگر حساس علاقوں میں بھی پولیس کے طاقتور دستوں کو چوکس دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے کی وجہ سے حیدرآباد پولیس نے راجہ سنگھ کو رام نومی کا جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی جبکہ مندر کمیٹیوں کو جلوس کی مشروط اجازت دی گئی لیکن ان سب کے باوجود راجہ سنگھ نے نہ صرف جلوس کی قیادت کی بلکہ ریلی کے دوران ڈی جے پر جم کر نفرت انگیز و متنازعہ گانے بجائے گئے۔ پولیس کی جانب سے عائد پابندی کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی۔


