حیدرآباد (دکن فائلز) لوک سبھا انتخابات 2024 میں بی جے پی کا ’مشن تلنگانہ‘ کے تحت ریاست میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا منصوبہ ہے اور اس کےلئے بھگوا پارٹی نے اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ بی جے پی کا مقصد تلنگانہ میں ڈبل ڈیجٹ میں سیٹیں حاصل کرنا ہے۔
تلنگانہ میں 13 مئی کو ووٹنگ ہوگی تاہم ان 10 دنوں میں بی جے پی کی جانب سے ریاست میں جارحانہ انداز میں مہم چلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت وزیراعظم نریندر مودی، امیت شاہ، یوگی ادتیہ ناتھ کے علاوہ دیگر بی جے پی لیڈر انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔
سیاسی دانشوروں نے انتخابی مہم کے آخری مرحلہ میں بی جے پی کی جانب خوب ہندو مسلم کرنے کا انتباہ دیا ہے اور ایسا مانا جارہا ہے کہ اس مرحلہ پر بی جے پی کی تمام تر توجہ صرف مسلم مخالف بیانات کے ذریعہ ہندو ووٹوں کا زیادہ سے زیادہ پولرائزیشن کیا جاسکے۔ پہلے ہی امیت شاہ نے ریاست میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ریزرویشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ گذشتہ روز امیت شاہ نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں بھی روڈ شو منعقد کیا۔ انہوں نے اسدالدین اویسی کا نام لئے بغیر کہا کہ ’گذشتہ 40 سال سے حیدرآباد میں رضاکاروں کے نمائندہ کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا جارہا ہے‘۔ لال دروازہ میں مادھوی لتا کی تائید میں مہم چلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’حیدرآباد کو رضاکاروں سے آزاد کرو‘۔
حیدرآباد دورہ کے موقع پر امیت شاہ نے بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو اہم ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ضلع صدور، ضلع انچارج اور ضلع کنوینرز سے بات کی اور بوتھ سطح پر خوب محنت کرنے کا حکم دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم مودی 8 مئی کو ورنگل اور کریم نگر میں جلسوں سے خطاب کریں گے۔ اسی طرح وہ 10 مئی کو محبوب نگر اور حیدرآباد میں عوامی جلسوں میں شرکت کریں گے۔ 10 میں کو حیدرآباد کے ایل بی اسٹیڈیم میں وہ ایک بڑے جلسہ کو خطاب کریں گے۔ آخری مرحلہ کی انتخابی مہم میں مرکزی وزراء، بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کے علاوہ بی جے پی کے اہم لیڈرز ریاست کا دورہ کرکے انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔


