واہ رے سیاست۔۔۔ مسلم ریزرویشن کی تلنگانہ میں مخالفت تو آندھرا میں حمایت، سیاسی پارٹیوں کا دوغلا رویہ

حیدرآباد (دکن فائلز) وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم ریزرویشن کو ختم کردیا جائے گا۔ بی جے پی تلنگانہ میں زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کرے کےلئے کوشاں ہے، اسی لئے یہاں مسلم ریزرویشن کو ایک مسئلہ بتایا جارہا ہے وہیں اس کے الٹ آندھراپردیش میں بی جے پی کی اتحادی پارٹی تلگودیشم کو مسلم ووٹوں کی ضرورت ہے، اس لئے تلگودیشم پارٹی کھل کر مسلم ریزرویشن کے حق میں سامنے آئی ہے۔

آندھراپردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے تلگودیشم پارٹی کے سربراہ چندرابابو نائیڈو نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ٹی ڈی پی- جے ایس پی- بی جے پی اتحاد اقتدار میں آتا ہے تو آندھرا پردیش میں او بی سی زمرہ کے تحت مسلمانوں کے 4 فیصد تحفظات کو برقرار رکھا جائے گا۔

چندرا بابو نائیڈو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یہ اس وقت سامنے آیا جب وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سوشل میڈیا پر بی جے پی لیڈروں کی تقاریر کو شیئر کیا گیا جس میں انہیں مسلم ریزرویش کے خلاف بیان دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ وائی ایس آر سی پی کی جانب سے یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ اگر تلگودیشم اقتدار میں آتی ہے تو مسلم ریزرویشن کو ختم کردیا جائے گا۔

انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے کہا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں تحفظات سے متعلق کیس چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے اور کرن کمار ریڈی کے دور میں مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔

مسلم ریزرویشن سے متعلق چندرا بابو نائیڈو کے بیان کے بعد بی جے پی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھگوا پارٹی ووٹوں کےلئے کس حد تک جاسکتی ہے۔ ہندو ووٹوں کےلئے بی جے پی تلنگانہ میں مسلم ریزرویشن کے خلاف بیان دے رہی ہے اور تو آندھراپردیش میں مسلم ووٹ حاصل کرنے کےلئے بی جے پی کی اتحادی پارٹی تلگودیشم مسلم ریزرویش کے حق میں بیان دینے پر مجبور ہے۔۔۔۔ واہ رے سیاست

اپنا تبصرہ بھیجیں