صد فیصد پولنگ کے ذریعہ ہی ملک کے امن و جمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے: جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کی عاملہ کا اجلاس

حیدرآباد (پریس نوٹ) مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کی اطلاع کے بموجب مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم رحمانیہ تالاب کٹہ حیدرآباد میں مولانا مفتی محمد غیاث الدین رحمانی قاسمی دامت برکاتہم کی زیر صدارت ریاستی جمعیۃ علماء کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مختلف امور پر غور و خوض کرتے ہوئے اہم امور طئے پائے گئے۔ اجلاس کا آغاز مولانا حافظ عبدالاحد مفتاحی صاحب کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں حضرت مولانا منیر احمد صاحب ؒ اور مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحبؒ کے سانحہ ارتحال پر تعزیت پیش کی گئی اور دعائے مغفرت کی گئی۔

مفتی محمود زبیر قاسمی نے بتایا کہ اجلاس کے ایجنڈہ کے مطابق صد فیصد رائے دہی کو یقینی بنانے کیلئے مختلف تجاویز پیش کی گئیں اور طئے پایا کہ آخری جمعہ کے موقع پر بھی اس پر توجہ دلائی جائے، ملک میں جاری پارلیمانی انتخابات کے سلسلہ میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اور فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے والوں پر لگام کسی جائے اور جہاں جو سیکولر امیدوار جیت سکتا ہے اس کو ووٹ دے کر جتایا جائے اور رائے دہی کے تناسب میں اضافہ پر غور کیا گیا۔انھوں نے مزید بتایا کہ یہ بھی طئے پایا کہ جمعیۃ علماء کی ممبر سازی کے عمل میں تیزی پیدا کی جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو جمعیۃ سے جوڑنے کا کام کیا جائے۔

ضلعی زونس کی مجلس منتظمہ کا اجلاس پارلیمانی انتخابات کے بعد حیدرآباد اور مکتھل میں منعقد کئے جائیں گے۔ جناب حافظ فہیم صاحب اور جناب عظمت صاحب کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی ہے کہ ہوٹل وائسرے کی وقف اراضی کے سلسلہ میں وقف بورڈ چیرمین جناب عظمت اللہ حسینی صاحب سے ملاقات کرکے نمائندگی کرے اوروکلاء کی خدمات بھی حاصل کی جائے۔ اس موقع پر فلسطینیوں پر ہورہے ظلم و بربریت کی مذمت اور شدید غم و افسوس کا اظہار کیا گیا اور عرب ممالک سے اس اس مسئلہ میں موثر اور ٹھوس مداخلت کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔اس موقع پر ہلدوانی متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کی تفصیل پیش کی گئی اور مزید امداد کی اپیل کی گئی۔

اس موقع پر اضلاع کے صدور و معتمدین موجود تھے جن قابل ذکر حضرت مولانا فصیح الدین ندوی صاحب، حضرت غم حافظ فہیم الدین صاحب کاماریڈی، جناب عظمت صاحب، حضرت مفتی کلیم صاحب، حضرت مولانا محمد الیاس قاسمی صاحب، حضرت مولانا محمد عقیل احمد قاسمی صاحب، حضرت مولانا حافظ عبدالسمیع صاحب، حضرت مولانا حافظ عبدالاحد مفتاحی صاحب، حضرت مولانا بلال الرحمن صاحب، حضرت مولانا عبدالعلیم کوثر صاحب، حضرت مولانا عبدالعلیم فیصل صاحب، حضرت مولانا وسیم جاوید صاحب اور دیگر علماء کرام موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں