حیدرآباد کے پرانے شہر میں پولیس کی جانب سے قربانی کے جانوروں کو ضبط کرنے کی کوشش کے خلاف تاجرین کا زبردست احتجاج (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) پرانے شہر کے سنتوش نگر میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب مویشی تاجرین نے پولیس کی جانب سے غیرضروری طور پر قربانی کے جانوروں کو ضبط کرنے کی کوشش کے خلاف احتجاج کیا۔ جمعہ 31 مئی کی رات ہوئے اس احتجاج کی وجہ سے علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔ قبل ازیں پولیس کی بھاری جمیعت عیدی بازار کے علاقہ میں پہنچ کر مویشی تاجرین کے قربانی کے جانوروں کو ضبط کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق ان کے پاس جانوروں کے صحیح میڈیکل سرٹیفیکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کاروائی کی گئی۔

اچانک پولیس کی بھارتی جمیعت علاقہ میں پہنچنے کے بعد بازار میں کچھ دیر کےلئے تناؤ کا ماحول دیکھا۔ اس دوران کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور کارکن بھی بڑی تعداد میں یہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے تاجرین کے ساتھ ملکر پولیس کے رویہ کے خلاف احتجاج کیا۔

بعدازاں مجلسی رہنما مرزا رحمت بیگ نے دیگر پارٹی رفقا کے ساتھ سنتوش نگر پولیس اسٹیشن پہنچ کر ڈی سی پی، ڈی جانکی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پولیس اسٹیشن کے باہر پولیس کے رویہ کے خلاف نعرے بازی کی بھی کی۔ تاہم بعد میں تاجرین نے ویٹرنری ڈاکٹروں کی جانب سے جاری مویشیوں کے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کے بعد پولیس صورتحال پرسکون ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق سنگھ پریوار سے وابستہ تنظیموں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ کچھ ویڈیو وائرل کئے جس کے بعد پولیس کی جانب سے اس طرح کی کاروائی کی گئی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل اولڈ ملک پیٹ علاقہ میں بھی پولیس کی جانب سے قربانی کے متعدد جانوروں کو ضبط کیا گیا تھا، جبکہ تمام جانور بیل تھے۔ عیدالاضحیٰ سے عین قبل پولیس کی غیرضروری کاروائی سے مسلمانوں میں غم و غصہ دیکھا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں