سیکولرازم کا قتل؟ گجرات کی سوسائٹی میں مسلم خاتون کو سرکاری فلیٹ الاٹ کرنے کے خلاف ہندوؤں کا احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے وڈودرا میں ایک سرکاری ملازم مسلم خاتون کو مکھیہ منتری آواس یوجنا کے تحت ایک ہندو اکثریتی سوسائٹی میں گھر الاٹ کرنے کے خلاف کچھ فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے ہندوؤں نے احتجاج کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ شدت پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ علاقہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور یہاں دوسرے مذہب کے کسی بھی شخص کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 44 سالہ مسلم خاتون کو 2018 میں وڈودرا کے ہرنی علاقے کی موتھ ناتھ ریسیڈنسی کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی میں فلیٹ الاٹ کیا گیا تھا۔ خاتون نے بتایا کہ مقامی ہندوؤں نے 2020 میں احتجاج کیا تھا جب میں یہاں رہنے آئی تھی۔ تاہم اب تازہ طور پر 10 جون کو بھی مجھے گھر الاٹ کرنے کے خلاف کچھ لوگوں نے احتجاج کیا جس کی تصاویر اب سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

حد تو یہ ہوگئی کہ احتجاجیوں نے مسلم خاتون کے عمارت میں داخلہ کو روکنے کےلئے ضلع کلکٹر، وڈودرا میونسپل کمشنر، میئر اور پولیس کمشنر سے تحریری شکایت کی تھی۔ احتجاجی ہندوؤں کے علاقے میں مسلم خاتون کو گھر الاٹ کرنے کوغیرقانوری قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے مسلم خاتون کو دوسرے علاقہ میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ہرنی علاقہ ہندوؤں کی اکثریت والا علاقہ ہے اور یہاں دور دور تک کوئی مسلم آبادی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مسلم خاتون کو گھر الاٹ کرکے یہاں کے ہندوؤں کی زندگی کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مسلم خاتون کو امن و امان کیلئے خطرہ قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کا طرح پھیل گئی اور صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ متعدد لوگوں نے اس زہریلی ذہنیت کو ہندوتوا و فرقہ پرست طاقتوں کی نفرت انگیز مہم کا نتیجہ قرار دیا۔ کچھ صارفین نے اس واقعہ کو سیکولرازم کا قتل قرار دے دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں