حیدرآباد (دکن فائلز) شہر میں مختلف مقامات پر پیش آنے والے واقعات سے افراتفری پھیل گئی۔ ایک ہی دن میں تین قتل کی وارداتوں سے شہریوں میں خوف کا ماحول ہے۔ آصف نگر اور بالاپور میں دو نوجوانوں کو قتل کردیا گیا تو چندا نگر میں ایک شادی خاتون کا قتل ہوا۔ اس دوران یوسف گوڈا چیک پوسٹ چوراہے پر چلتی بس سے اترنے کے دوران انٹر کی طالبہ بس کے نیچے آگئی جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔
مہدی پٹنم میں ایک نوجوان کو سڑک پر بے دردی سے چھرا گھونپ کر قتل کردیا۔ آصف نگر میں رہنے والے مجاہد کا گزشتہ سال 27 اگست کو قتل کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مبینہ طور پر آصف نگر کا رہنے والا عبدالقدوس بھی شامل تھا۔ تازہ طور پر مجاہد کے بھائیوں نے آصف نگر کراس روڈ کے قریب قدوس کا پیچھا کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شدید زخمی قدوس کو علاج کے لیے عثمانیہ اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کی موت ہوگئی۔
چندا نگر میں ایک شادی شدہ خاتون کا قتل کر دیا گیا۔ کرناٹک سے تعلق رکھنے والی وجے لکشمی (32) اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ حیدرآباد میں رہ رہی تھی۔ گذشہ جمعہ کی سہ پہر بھرت عرف سری نواس گوڑ نے خاتوم پر حملہ کرکے اس کا قتل کردیا۔ اطلاعات کے مطابق خاتون کے بھائی گوڑ سے رقم لی تھی اس تنازعہ کے چلتے گوڑ نے وجئے لکشمی پر چاقو سے حملہ کرکے قتل کر دیا۔ گوڑ کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ 01
بالاپور میں ایک نوجوان محمد سمیر (19) ولد محمد منیر کو نوجوانوں کے گروپ نے قتل کردیا۔ سمیر کا ایک نوجوان سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد نوجوان نے اپنے دونوں کے ساتھ ملکر سمیر کا قتل کردیا۔ پانچ نوجوانوں کے گروپ نے سمیر کو حافظ نگر کے قریب واقع تالاب کے پاس بلایا۔ نشہ میں دھت پانچوں نوجوانوں نے سمیر پر چاقوؤں سے حملہ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ پولیس کی جانب سے سمیر کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد سمیر نے دم توڑ دیا۔


