حیدرآباد: گاؤ رکھشکوں کی بیجا سرگرمیوں سے کچھ علاقوں میں ہلکی سی کشیدگی، شرپسند عناصر سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے میں مصروف، پولیس نے حکومت کے رہنمایانہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے عید منانے کی اپیل کی

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کو منتقلی کے دوران روکے جانے کے بعد کچھ علاقوں میں ہلکی سی کشیدگی دیکھی گئی۔

گاؤ رکھشک اب خواتین کا سہارا لیکر اپنی غیرقانونی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اس طرح کا ایک واقعہ حیدرآباد کے واحد نگر اولڈ ملک پیٹ میں پیش آیا۔ گذشتہ روز علاقہ میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب دو خواتین جنہوں نے گاؤ رکھشا دل کی رکن ہونے کا دعویٰ کیا، نے قربانی کے جانور لے جانے والی گاڑی پر چڑھ کر غیرقانوی طور پر اسے روک دیا۔ اس دوران مقامی لوگوں نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ کیونکہ شرپسند عناصر کی سازش تھی کہ کوئی مسلمان شخص ان خواتین کو ہٹانے کی کوشش کرتا تو اسے بڑا مسئلہ بناکر پیش کیا جاتا اور امن و امان میں خلل پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی۔

بھگوا تنظیم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے جیپ پر چڑھ گئی اور دوسری خاتون گاڑی کے سامنے آکر اسے غیرقانوی طور پر روک دیا۔ ٹرک میں قربانی کے جانور تھے۔ اس میں کوئی بھی گائے یا ممنوعہ جانور نہیں تھا لیکن شرپسندی کی گئی۔ بعدازاں پولیس نے معاملہ کو رفع دفع کردیا۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے کچھ شرپسند عناصر ٹرک میں گائے ہونے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں۔ پولیس کو چاہئے کہ ایسے شرپسند عناصر کے خلاف کاروائی کرے جو سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلاکر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسی طرح شاہ عنایت گنج میں گاؤ رکھشکوں کے ایک گروپ نے قربانی کے جانوروں کے ٹرک کو روکنے کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔ اس دوران ٹرک ڈرائیور کو دھمکی بھی دی گئی، تاہم اس دوران مجلس کے رہنما اور کارکنان کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ کر پولیس اور گاؤ رکھشکوں کی بیجا کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ ٹرک میں صرف بیل تھے لیکن شرپسندوں نے گائے ہونے کا جھوٹا کرتے ہوئے ٹرک کو روک دیا۔ بعدازاں پولیس نے گاؤ رکھشکوں کو منتشر کر دیا اور بیلوں کے ٹرک کو وہاں سے آگے بڑھادیا۔

گاؤ رکھشکوں کی جانب سے غیرضروری طور پر پولیس کے کام میں مداخلت کرکے حالات بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پولیس کو چاہئے کہ ایسے شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں اور قانون کے دائرہ میں مسلمانوں کو قربانی کرنے کی اجازت دے۔ وہیں بالانگرمیں بھی گاؤ رکھشکوں کی جانب سے ٹرک ڈرائیورس پر زدکوب کرنے کی بھی اطلاع ہے۔

واضح رہے کہ تلنگانہ ہائیکورٹ نے بھی کچھ روز قبل گائے کی منتقلی یا ذبیحہ کو روکنے کی ہدایت دی تھی۔ لیکن گاؤ رکھشک تمام دستاویزات ہونے کے باوجود بیلوں پر بھی اعتراض کررہے ہیں۔

حیدرآباد پولیس نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔ پولیس نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کریں۔ ساؤتھ زون ڈی سی پی، سنیہا مہرا نے کہا کہ ’ہم عید کے تہوار کو حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق مل کر منائیں‘۔ انہوں نے لوگوں سے قربانی کے بعد جانوروں کے فضلہ کو مناسب انداز میں بلدیہ کے ڈبوں میں ڈالنے کا بھی مشورہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں