اسلامو فوبیا! جانوروں کو قربانی سے بچانے کےلئے جین برادری کے گروپ نے 125 بکروں کو خرید لیا

حیدرآباد (دکن فائلز) پرانی دہلی میں جین برادری سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے بکرا مارکٹ سے 15 لاکھ روپے مالیت سے تقریباً 125 بکرے خریدے تاکہ انہیں ذبح (قربانی) کرنے سے روکا جاسکے۔ دنیا بھر میں عیدالاضحی کے موقع پر مسلمان جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ عید کے تین دنوں کے دوران اونٹ، بیل، بھینس یا بکرا کی قربانی (ذبح) دی جاتی ہے۔

ہر سال عیدالاضحیٰ سے قبل کچھ نام نہاد امن پسند و سماجی گروپس کی جانب سے قربانی کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اور یہ پروپگنڈہ پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے جانوروں کو ہلاک کیا جارہا ہے۔ اس طرح کی اسلاموفوبیا مہم آن لائین بھی چلائی جاتی ہے۔

دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق جین گروپ کے رکن نے بتایا کہ ’امن اور مثبت سونچ پیدا کرنا جین منتر ہے، بکرے خوفزدہ تھے کیونکہ انہیں ذبح کرنے کےلئے جمع کیا گیا تھا لیکن انہیں بچالیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق 15 جون کی شام 25 افراد پر مشتمل ایک گروپ جس کا تعلق جین برادری سے ہے نے ایک واٹس ایپ پیغام جاری کیا گیا جس میں رقم کے عطیہ کی اپیل کی گئی۔ جس کے بعد جمع رقم لیکر خود کو مسلم ظاہر کرتے ہوئے گروپ کے ارکان بکرا بازار پہنچے اور بڑی تعداد میں بکروں کی خریداری کی تاکہ انہیں قربانی سے بچایا جائے۔ ان کے مطابق انہوں نے بکروں کی جان بچائی ہے۔

واضح ہے کہ آن لائن مہم کے بعد گجرات، حیدرآباد، کیرالہ، پنجاب اور مہاراشٹر میں موجود جین برادری کے افراد نے 15 لاکھ روپئے کا عطیہ دیا تاکہ جانوروں کی قربانی نہ دی جاسکے۔ اس طرح کی مہم چلاکر کچھ نام نہاد افراد خود کو امن کا چیمئن سمجھنے لگتے ہیں جبکہ اسلام ہی دنیا کا سب سے بڑا امن پسند مذہب ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں