حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے مظفر نگر ضلع میں ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ جس کے چلتے ایک شخص نے میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں سے ملی بھگت کر کے اپنے ہی ایک ساتھی کے عضو تناسل کو کٹوا کر اس کی جنس تبدیل کرا دی۔ واقعہ کی اطلاع علاقے میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس کے چلتے بھارتیہ کسان یونین کے کارکنان بھی ملزم شخص اور ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کو لے کر میڈیکل کالج میں احتجاجی مظاہرے پر بیٹھ گئے۔
اتر پردیش میں ایک انتہائی سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ مظفر نگر کے ایک مسلم نوجوان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کی جنس تبدیل کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق 20 سالہ مجاہد کا کہنا ہے کہ اوم پرکاش نے اسے بیہوش کرکے ہسپتال لے گیا اور سرجری کرکے اس کی جنس تبدیل کردی۔ مجاہد نے اپنے دوست اوم پرکاش پر الزام عائد کیا کہ اس نے ڈاکٹروں سے ملی بھگت کر کے اس کا عضو تناسل کٹوا دیا اور اس کی جنس ہی تبدیل کرا دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجاہد نے اوم پرکاش پر گذشتہ دو سال سے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ گذشتہ 3 جون کو اوم پرکاش نے مبینہ طور پر مجاہد کو بیہوش کرکے اسے ہسپتال لے آیا اور ڈاکٹروں کو مجاہد کی جنس تبدیل کرنے کےلئے سرجری کرنے پر راضی کرلیا۔ 4 جون کی صبح مجاہد کی جنس تبدیلی کےلئے سرجری کی گئی۔ مجاہد کے مطابق ’جب مجھے ہوش آیا تو یہ بتایا گیا کہ میں اب لڑکا نہیں ہوں بلکہ میرا جنس تبدیل ہوگیا ہے، اب میں لڑکی ہوں‘۔
مجاہد نے مزید بتایا کہ ’اوم پرکاش نے مجھ سے شادی کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب میں لڑکی ہوں‘۔ مجاہد نے بتایا کہ اوم پرکاش نے مزاحمت کرنے پر میرے والد کو قتل کرنے کی بھی دھمکی دی۔


