پارلیمنٹ میں ’فلسطین کی حمایت‘ میں نعرہ لگانے پر بی جے پی ارکان چراغ پا: میں نے کچھ غلط نہیں کیا، اسدالدین اویسی کا جواب (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) لوک سبھا میں حلف برادری کے دوران بیرسٹر اسدالدین اویسی کی جانب سے لگائے گئے نعروں کو ریکارڈ سے حذف کردیا گیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے آج لوک سبھا میں اللہ کے نام پر حلف اٹھایا اور ’جئے بھیم، جئے میم، جئے تلنگانہ، جئے فلسطین، تکبیر اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کیا۔ اویسی کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں نعرہ لگانے پر بی جے پی ارکان چراغ پا ہوگئے۔ بی جے پی ارکان نے اس پر اعتراض جتایا اور ہنگامہ کھڑا کردیا، جس کے بعد رادھا موہن سنگھ، جو اس وقت اسپیکر کی کرسی پر تھے، نے اراکین کو یقین دلایا کہ حلف کے علاوہ نعرہ کو ریکارڈ سے نکال دیا جائے گا۔

پروٹیم اسپیکر بی ہری مہتاب نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حلف کے علاوہ دیئے گئے نعروں کو ریکارڈ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں نے کوئی بھی غیرقانونی عمل نہیں کیا ہے۔ اویسی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیسے غلط ہے؟ مجھے آئین کی دفعات بتائیں؟ آپ کو بھی سننا چاہئے کہ دوسروں نے کیا کہا۔ مجھے جو کرنا تھا میں نے کیا‘۔

وہیں مرکزی وزیر جی کشن ریڈی نے کہا کہ ’اویسی کی جانب سے دیا گیا نعرہ “بالکل غلط” اور آئین کے خلاف ہے۔ ایک طرف وہ آئین کے نام پر حلف لے رہے ہیں اور دوسری طرف آئین کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، اویسی کا اصلی چہرہ سامنے آ گیا ہے، وہ آئے روز ملک اور آئین کے خلاف سوالات اٹھاتے رہتے ہیں”۔

اویسی کے نعرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجیو نے کہا کہ ہم کسی ملک کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتے لیکن ایوان میں کسی ملک کا نام لینا درست نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں