حیدرآباد (دکن فائلز) اس خبر نے کہ بی جے پی کے سینئر رہنما، سابق وزیر اعظم ایل کے اڈوانی نہیں رہے، ملک بھر میں سنسنی پھیلادی ہے۔ یہ خبر وائرل ہوگئی اور اس خبر نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا۔ جانتے ہیں آخر اس خبر کی اصل کہانی کیا ہے؟
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے اور یہی وجہ ہے کہ فرصی خبریں سوشل میڈیا پر اتنی تیزی سے پھیلتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ صحیح ہے یا غلط۔ ایسے ہی ایک مرتبہ پھر آج ایک خبر وائرل ہو رہی ہے جس میں جھوٹی اطلاع دی گئی ہے کہ ایل کے اڈوانی کا دیہانت ہوچکا ہے۔
لال کرشن اڈوانی کچھ دن پہلے ہی عمر سے متعلق بیماری کا علاج کرانے اسپتال میں داخل ہوئے تھے تاہم انہیں بعد میں ڈسچارج کردیا گیا۔ ڈسچارج ہونے کے دو دن بعد اچانک سوشل میڈیا پر ان کی موت کی جھوٹی خبر وائرل ہوگئی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اڈوانی کی صحت ٹھیک ہے اور وہ آرام کررہے ہیں۔ انتظامیہ نے لوگوں سے اس طرح کی جعلی و فرضی خبروں کو آگے نہ پھیلانے کی ہدایت دی ہے۔


