’مسلمانوں پر حملہ کرنے والے ہندو ہو ہی نہیں سکتے‘: بنگلہ دیشی بتاکر غریبوں پر حملہ کرنے والے ہندو رکھشا دل کے غنڈوں کو سپریا شرینیت نے جاہل کہہ دیا (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) بنگلہ دیش میں جاری بحران کے درمیان ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے سرگرم ہیں۔ کچھ ہندتوا تنظیموں کے غنڈوں کا اب ذہنی توازن بھی بگڑ گیا ہے، وہ اب ہندوستانیوں کو بھی بنگلہ دیشی سمجھ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی میں نام نہاد ہندوتوا اشرار پر مشتمل گروپ نے ایک مسلم بستی پر حملہ کردیا اور یہاں رہنے والے غریب ہندوستانی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتاکر مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرلیا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ غنڈے غریب مسلمانوں پر لاٹھیوں سے حملہ کررہے ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کررہے ہیں۔ اشرار نے انہیں یہاں سے چلے جانے کی بھی دھمکی دی۔ اس دوران غنڈوں نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی۔ ہندو رکھشا دل کے غنڈوں نے غازی آباد شاہجہاں پور میں رہنے والے غریب مزدوروں کی درجنوں جھونپڑیوں کو تباہ کردیا۔ پولیس کے مطابق جانچ کے بعد اس علاقہ میں کوئی بھی شخص بنگلہ دیشی نہیں نکلا، تمام غریب افراد ہندوستانی شہری ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مطابق اس معاملے میں پنکی چودھری اور اس کے 20 ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

وہیں کانگریس رہنما سپریا شرینیت نے اس مار پیٹ کے واقعہ اور پولیس کے بیان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’غازی آباد میں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتاکر کچھ لوگوں نے پیٹا اور ان کی جھگیاں اکھاڑ دیں۔ پھر پولیس نے سچ بتایا کہ یہ خاندان شاہجہاں پور کے ہیں، یہاں کوئی بنگلہ دیشی نہیں ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو رکشا دل کا صدر پنکی چودھری سمیت 20-15 حامیوں پر غازی آباد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ آخر میں کانگریس رہنما نے مسلمانوں پر حملہ کرنے والے حملہ آوروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے جاہل ہندو ہو ہی نہیں سکتے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں