حیدرآباد (دکن فائلز) آج ملک بھر میں 78ویں یوم آزادی کا جشن جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے یکساں سول کوڈ سے متعلق بیان دیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔ مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں ایک سیکولر سیول کوڈ ہونا چاہیے۔ اس بیان پر اپوزیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مودی کی تقریر کو تقسیم کرنے والی قرار دیا۔
وزیر اعظم مودی نے ملک کی کچھ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر تازہ طور پر یو سی سی یعنی یکساں سیول کوڈ کا معاملہ اٹھا ہے۔ انہوں نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے کی گئی اپنی تقریر میں کہا کہ سپریم کورٹ نے یکساں سیول کوڈ پر کئی بار بحث کی ہے۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ یہ مانتا ہے کہ موجودہ سول کوڈ فرقہ وارانہ ہے۔ اب ملک کو سیکولر سیول کوڈ کی ضرور ت ہے۔
کانگریس رہنما وویک تنکھا نے کہا کہ ’سیکولر سیول کوڈ‘ سے متعلق وزیراعظم کا بیان لوگوں کو تقسیم کرنے والا بیان ہے۔ وہیں کانگریس کے سینئر رہنما سلمان خورشید نے بھی مودی کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیکولر سیول کوڈ والے بیان پر کہا کہ ’آئین سب سے اونچا ہے اور آئین میں جو اجازت دی گئی ہے وہی ہوگا‘۔
اسی دوران نیشنلسٹ کانگریس کی سپریا سولے نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بی جے پی کی نہیں بلکہ این ڈی اے کی حکومت ہے اس لئے وزیراعظم، سیکولر سیول کوڈ کی بات کررہے ہیں‘۔
دانشوران کے مطابق مودی حکومت اب بیچ کا راستہ اپناتے ہوئے اپنے ہندوتوا ایجنڈہ کو پورا کرنا چاہتی ہے۔ یکساں سیول کوڈ پر مسلمانوں اور سیکولر پارٹیوں کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے مودی حکومت نے اب یکساں سیول کوڈ کا نام تبدیل کرکے ’سیکولر سیول کوڈ‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس پر اعتراض کرنے والوں کو سیکولر کا دشمن قرار دیتے ہوئے بھگوا ایجنڈہ کو لاگو کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ مودی حکومت ملک میں یکساں سیول کوڈ لانا چاہتی ہے۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ فی الحال این ڈی اے میں بی جے پی کی طاقت میں کمی آئی ہے۔ اب این ڈی اے حکومت میں تلگودیشم اور جے ڈی یو کو کنک میکر سمجھا جارہے ہے۔ ایسے میں بی جے پی سیکولرزم کی بات کرنے پر مجبور ہوگئی ہے اور ہر قدم پھوک پھوک پر رکھ رہی ہے۔


