مسجدوں کے سروے کے نام پر نفرت کی سازش، مولانا محمود مدنی کا چیف جسٹس آف انڈیا کو مکتوب، جمعیۃ علماء کے وفد کی سنبھل میں اعلیٰ حکام سے ملاقات

حیدرآباد (دکن فائلز) چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کو لکھے ایک مکتوب میں، جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے مسجدوں کے سروے کی آڑ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی سازش کو روکنے کے لیے فوری کارروائی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ان سروے کے نقصان دہ اثرات پر بھی روشنی ڈالی، جو عوام کے اعتماد کو ختم کر رہے ہیں اور ملک بھر میں بدامنی، سماجی تقسیم اور تشدد کا باعث بن رہے ہیں، جیسا کہ سنبھل کے حالیہ واقعہ میں دیکھا گیا ہے۔

مولانا محمود مدنی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ازخود نوٹس لے اور قومی اتحاد و سیکولرازم کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن مداخلت کرے۔ وہیں دوسری جانب مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے سنبھل پہنچ کر اعلیٰ حکام سے ملاقات اور پولیس فائرنگ کے حالیہ واقعات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔

وفد نے پولیس افسران سے بے گناہ لوگوں کی گرفتاری پر بھی اعتراض کرتے ہوئے فوری طور پر وشنو جین سمیت دیگر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جمعیۃ علماء نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ واقعہ کی منصفانہ تحقیقات کرائے اور متاثرین کو 50 لاکھ روپے کا معاوضہ دے۔

وفد میں جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کے ساتھ مولانا غیور احمد قاسمی، مولانا علاؤالدین قاسمی (ہاپوڑ)، مولانا ضیاء اللہ قاسمی اور ایڈوکیٹ مرزا عاقب بیگ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ حافظ شاہد (جمعیت علماء سنبھل)، مولانا ندیم اختر، مولانا عبدالغفور، ڈاکٹر رحمان اور محمد ریحان کے ساتھ مقامی جمعیۃ علماء کی پوری ٹیم بھی موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں