شدت پسند ہندو تنظیم وی ایچ پی کے پروگرام میں ہائیکورٹ کے جج کی یکساں سیول کوڈ کی تائید میں تقریر، اسدالدین اویسی کا سخت حملہ

حیدرآباد (دکن فائلز) کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ہائیکورٹ جج کی جانب سے وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے پروگرام میں شرکت کرنے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کی حرکتوں سے عدالتی غیر جانبداری اور آئینی اصول مجروح ہوتے ہیں۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے ٹوئٹ کرکے پریاگ راج میں وی ایچ پی کے قانونی سیل کے ذریعہ منعقدہ ایک پروگرام میں ہائیکورٹ کے جج کی جانب سے کی گئی تقریر پر سخت تنقید کی۔ اس موقع پر یکساں سول کوڈ کے ملک میں نفاذ پر غور و خوص کیا گیا۔ پروگرام میں جج نے تقریر کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ ہندوستان “اکثریت کی خواہشات” کے مطابق کام کرے گا۔

اویسی نے نشاندہی کی کہ آر ایس ایس سے منسلک شدت پسند تنظیم وی ایچ پی پر ماضی میں پابندیاں بھی عائد کی جاچکی ہے اور اس پر “نفرت و تشدد” بھڑکانے کا بھی الزام عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس طرح کی شدت پسند تنظیم کے پروگرام میں ایک جج کی شرکت پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے عدلیہ کی غیر جانبداری سے متعلق سنگین خدشات پیدا ہوتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ “غیر جانبداری، آزادی، انصاف پسندی اور فیصلہ سازی میں معقولیت عدلیہ کی خصوصیات ہیں۔” انہوں نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ ان اصولوں پر عمل کرے، جنہیں وہ جمہوری نظام میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

اویسی نے امبیڈکر کا بھی حوالہ دیا۔ امبیڈکر نے کہا کہ جمہوریت میں اکثریت کو “حکمرانی کا حق” حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اقلیتی برادریاں ایسے جج سے انصاف کی امید کیسے رکھ سکتی ہیں جو کھلے عام وی ایچ پی کے زیر اہتمام پروگراموں میں حصہ لیتا ہے، جسے وہ ایک پولرائزنگ تنظیم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں