حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ جج کی جانب سے وی ایچ پی کے ایک پروگرام میں انتہائی متنازعہ و نفرت انگیز تقریر کرنے کے معاملہ میں ازخود نوٹس لیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر کمار یادو نے کٹر پسند ہندو تنظیم وی ایچ پی کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے یکساں سیول کوڈ کی تائید میں کہا تھا کہ ’ملک اکثریت کی خواہشات کے مطابق چلے گا‘۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران مسلمانوں کے خلاف متنازعہ و نفرت انگیز ریمارکس بھی کئے۔
جسٹس یادو نے 8 دسمبر کو پریاگ راج میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے قانونی سیل کے ذریعہ منعقدہ ایک پروگرام میں یکساں سول کوڈ کی آئینی ضرورت پر ایک لیکچر دیتے ہوئے متنازعہ تبصرے کئے تھے۔ سپریم کورٹ نے جسٹس شیکھر کمار یادو کی طرف سے دی گئی تقریر کی اخباری رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ سے تفصیلات طلب کی ہیں۔
جسٹس یادو کے ریمارک نے سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ “سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جج جسٹس شیکھر کمار یادو کی تقریر کی اخباری رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔ ہائی کورٹ سے تفصیلات طلب کی گئی ہیں، معاملہ زیر غور اور سماعت ہے”۔
وی ایچ پی کے پروگرام میں تقریر کے دوران، ہائی کورٹ کے جج نے کہا، “مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ یہ ہندوستان ہے، یہ ملک ہندوستان میں رہنے والے بہوسنکھیا کی خواہشات کے مطابق چلے گا۔ یہ قانون ہے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ ہائی کورٹ کے جج ہوتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں‘۔


