حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا میں فرقہ پرستی کا انتہائی خوفناک چہرہ سامنے آیا ہے۔ مبینہ طور پر ایک ہندتوا شدت پسند مسجد میں گھس گیا اور مسجد کے موذن صاحب کے ساتھ بدتمیزی کی اور مصلیوں کو دھمکایا۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
https://www.facebook.com/share/v/19i5sTTfSK
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد میں اذان کے دوران بھگوا رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص مسجد میں گھس جاتا ہے اور اذان نہ دینے کےلئے ہنگامہ کرنا و دھمکانہ شروع کردیتا ہے۔ انتائی پسندی کا یہ واقعہ مہاراشٹر کے پرکاشا کی مسجد میں پیش آیا جہاں شدت پسند شخص نے اذان میں خلل ڈالا۔
مشتبہ شخص مقامی بتایا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد نہ صرف علاقہ کے بلکہ مہاراشٹرا کے مسلمانوں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان کے ہر مسلمانوں شہری کو اپنے مذہب پر چلنے کی پوری طرح آزادی ہے، اس طرح مذہبی امور کی انجام دہی سے زبردستی روکنا غیرقانونی ہے۔ پولیس سے شدت پسند شخص کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ابھی تک اس معاملہ میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ تاہم وائرل ویڈیو کے بعد عوامی غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں شکایت کی جاتی ہے تو ضروری کاروائی کی جائے گی۔


