راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں احتجاج کررہے 40 کشمیری طلبا کو مارا پیٹا گیا

حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں کشمیری طلبہ کے ساتھ مار پیٹ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتہ کی شام چتور گڑھ کی میواڑ یونیورسٹی میں پرامن احتجاج کررہے کشمیری طلباء کو مبینہ طور پر راجستھان پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یونیورسٹی میں بی ایس سی نرسنگ کے 40 سے زائد کشمیری طلبا کے ساتھ مار پیٹ کی گئی اور انہیں کیمپس سے نکال دیا گیا۔ دی آبزرور پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، بی ایس سی نرسنگ کے کشمیری طلبا اپنے کورس کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کچھ کئی ماہ سے احتجاج کررہے ہیں۔ کورس کو راجستھان نرسنگ کونسل اور انڈین نرسنگ کونسل سے ضروری منظوری حاصل نہیں ہے جبکہ منظوری لینے میں تاخیر کے خلاف طلبا نے احتجاج شروع کیا۔

احتجاجی طلبا کا کہنا ہے کہ کورس کی منظوری میں غیرضروری تاخیر سے ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں ہے۔ تین سالہ کورس میں داخلہ لینے والے طلبا نے کہا کہ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ طلبا نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جائز مطالبہ کےلئے پرامن انداز میں احتجاج کرنے پر یونیورسٹی حکام اور مقامی پولیس کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔

طلبا کے ساتھ مارپیٹ کا ایک ویڈیو وائرل ہوگیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبا کو مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا اور یونیورسٹی کیمپس سے زبردستی ہٹا دیا گیا۔ کیمپس میں داخلہ کی اجازت نہ دینے پر کئی طلبا نے شدید سردی میں بھی یونیورسٹی گیٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے رات گذاری۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک طالب علم نے کہا کہ ’ہمیں شدید سردی میں یونیورسٹی سے باہر نکال دیا گیا اور حکام نے ہمارے مطالبات سننے سے انکار کردیا۔ ہمیں معطلی کی دھمکیاں جارہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں