حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان میں متنازعہ کتاب پر پابندی کے تقریباً چار دہائیوں بعد، مصنف ملعون سلمان رشدی کی ‘The Satanic Verses’ ایک بار پھر ملک بھر میں بک اسٹورز پر فروخت کے لیے دستیاب ہے۔ گذشتہ نومبر میں عدالتی فیصلہ کے بعد پابندی کو ہٹادیا گیا۔ عدالت نے حکومت کی جانب سے اصل نوٹیفکیشن پیش کرنے میں ناکامی کو متنازعہ کتاب پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دینے کی بنیاد کےلئے کافی قرار دیتے ہوئے شیطانی ورسس سے پابندی ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
بھارت میں شیطانی آیات پر پابندی کیوں لگائی گئی؟
ستمبر 1988 میں شائع ہونے والی دی شیطانی ورسس نے عالمی غم و غصے کو جنم دیا تھا، خاص طور پر مسلم دنیا اس متنازعہ کتاب کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ مسلمانوں نے ناول پر مسلم مخالف و “توہین آمیز” ہونے کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد ہندوستان سمیت دنیا بھر میں پرتشدد مظاہرے ہوئے اور کتابیں جلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
اس وقت وزیر اعظم راجیو گاندھی کی قیادت میں ہندوستانی حکومت نے 5 اکتوبر 1988 کو کتاب کی درآمد پر پابندی لگانے کا ایک حکم نامہ جاری کیا۔ حکومت نے کسٹمز کے قانون کے تحت کتاب پر پابندی لگائی تھی۔
کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم، جو راجیو حکومت میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ تھے، نے کچھ سال پہلے کہا تھا کہ کتاب پر پابندی لگانے کا فیصلہ غلط تھا۔ تاہم تازہ طور پر رابطہ کرنے پر انہوں نے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں وہی نظریہ رکھتا ہوں جو میں نے 2015 میں کہا تھا‘۔
وہیں کانگریس پارٹی کے ایک اور لیڈر و رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہاکہ “یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ میں نے اصل پابندی کی مخالفت کی تھی لیکن اس وقت جو دلیل پیش کی گئی وہ امن و امان کے بارے میں تشویش اور پرتشدد گڑبڑ کا خطرہ تھا۔ مجھے یقین ہے کہ 35 سال بعد، یہ خطرہ کم سے کم ہے۔ ہندوستانیوں کو رشدی کے تمام کاموں کو پڑھنے اور ان کے مواد کا خود فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے’۔
جیسے ہی ملعون سلمان رشدی کی ناول ’دی شیطانی ورسس‘ کی فروخت کی خبر وائرل ہوئی، ہندوستان بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم علمائے کرام نے بھی صدمہ کا اظہار کیا۔
ایران نے رشدی کے قتل کا فتویٰ بھی صادر کردیا تھا۔ 1989 میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے فتویٰ جاری کرکے ملعون رشدی کو قتل کرنے کی اپیل کی تھی۔ ایران کی جانب سے قتل کا فتویٰ صادر ہونے کے بعد ملعون چھ سال تک روپوش رہنے پر مجبور رہا، لیکن اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا۔ 12 اگست 2022 کو 24 سالہ لبنانی نژاد امریکی ہادی ماتار نے ملعون رشدی پر چاقو سے حملہ کردیا تھا جس کی وجہ سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی لیکن وہ حملہ میں بچ گیا۔


