حیدرآباد (دکن فائلز) سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 92 سالہ کی عمر میں جمعرات کی رات انتقال ہوگیا۔ انہیں آج شام طبعیت بگڑنے کے بعد ایمس میں داخل کیا گیا تھا۔ کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے ٹویٹ کرکے یہ جانکاری دی۔ آج شام اچانک منموہن سنگھ کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں ایمس میں داخل کرایا گیا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔ وہ دومرتبہ ملک کے وزیراعظم کے باوقار عہدہ پر فائز رہے ہیں۔ منموہن سنگھ طویل عرصے سے صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کر رہے تھے۔ اس سے قبل بھی وہ کئی بار خرابی صحت کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوچکے ہیں۔
https://x.com/salman7khurshid/status/1872320672606917055
منموہن سنگھ کی صحت گزشتہ کچھ دنوں سے خراب تھی اور ان کی حالت تشویش ناک تھی۔ جمعرات کی شام انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کچھ وقت تک زیر علاج رہے لیکن بدقسمتی سے ان کی زندگی بچائی نہ جا سکی اور وہ انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی وفات کی اطلاع اسپتال کے ذرائع نے دی۔ جیسے ہی منموہن سنگھ کے انتقال کی خبر ملی ملک بھر میں خاص کر کانگریس حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت، پرینکا گاندھی، پرینکا گاندھی و دیگر رہنما بھی ایمس دہلی پہنچ گئے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہندوستان کے ایک عظیم ماہر اقتصادیات اور ایماندار سیاستدان کے طور پر جانا جاتا ہیں۔
کانگریس کے ایک سینئر لیڈر منموہن نے 2004 سے 2014 تک دس سال وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور UPA-1 اور UPA-2 حکومتوں کی قیادت کی۔ منموہن سنگھ، جنہوں نے ہندوستان کے 13ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں… ملک کے عظیم ترین ماہرین اقتصادیات میں سے ایک کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ملک کے کئی اقتصادی اداروں کے معمار کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے 1982-85 کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ منموہن سنگھ نے 1991 سے 196 تک پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت میں وزیر خزانہ کے طور پر اہم خدمات انجام دی تھیں۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ہندوستان کی معیشت میں تیز تر ترقی ہوئی اور ملک نے عالمی سطح پر اپنے آپ کو ایک اقتصادی طاقت کے طور پر تسلیم کرایا۔
اپ ڈیٹ جاری۔۔۔


