فوٹو بشکریہ: لائیولا
حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کی ایک عدالت نے ایک شخص سے کہا کہ وہ 2020 دہلی فسادات معاملے میں بی جے پی لیڈر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے متعلقہ ایم پی/ ایم ایل اے کورٹ سے رجوع ہوں۔ کڑکڑڈوما کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس ادبھو کمار جین نے شکایت کنندہ، محمد وسیم سے کہا کہ وہ کپل مشرا کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ ایم پی/ایم ایل اے کورٹ سے رجوع کریں کیونکہ وہ سابق ایم ایل اے ہیں۔
سماعت کے دوران مجسٹریٹ نے مشاہدہ کہ ’ایسا لگتا ہے کہ تفتیشی افسر پولیس کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے یا وہ مبینہ ملزم نمبر 3 (کپل مشرا) کے خلاف انکوائری کرنے میں ناکام رہے، یا پھر ملزم کے خلاف الزامات کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔
محمد وسیم نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے عدالت میں عرضی دائر کی تھی کہ وہ ان مسلم نوجوانوں میں شامل تھے جنہیں فسادات کے دوران پولیس اہلکاروں نے قومی ترانہ گانے کےلئے نہ صرف مجبور کیا گیا بلکہ تشدد کیا گیا۔ اس واقعہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم نوجوانوں کے ایک گروپ کو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر بری طرح مارا پیٹا جارہا تھا اور انہیں قومی ترانہ گانے پر مجبور کیا گیا۔ عدالت نے پولیس کے ذریعہ اس وحشیانہ عمل کو ہیٹ کرائم قرار دیا، جیوتی نگر ایس ایچ او کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔
دہلی میں 2020 کے فرقہ وارانہ تشدد کے دوران مسلم نوجوانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرنے اور بے رحمی سے مارنے پیٹنے کے معاملے میں دہلی کی ایک عدالت نے اب ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔پولیس کے اس وحشیانہ سلوک کو ہیٹ کرائم کے زمرے میں شامل کیا گیاہے۔ عدالت نےجیوتی نگر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ کپل مشرا کے خلاف کاروائی کی پولیس رپورٹ مکمل خاموشی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جج نے کہا کہ یا تو تفتیشی افسر کپل مشرا کے خلاف انکوائری کرنے میں ناکام رہے یا انہوں نے ان کے خلاف عائد الزامات کو چھپانے کی کوشش کی۔ جج نے مزید مشاہدہ کیا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے نفرت انگیز ریمارکس غیر جمہوری ہیں۔
وسیم کی شکایت اور کپل مشرا اور پولیس والوں کے خلاف الزامات
اپنی شکایت میں وسیم نے الزام لگایا کہ 24 فروری 2020 کو اس نے بی جے پی لیڈر کپل مشرا کی نشاندہی کی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر جمع ہجوم کی قیادت کر رہے تھے۔ الزام لگایا گیا کہ دہلی پولس کے اہلکار مشرا اور اس کے ساتھیوں کی مکمل حمایت کر رہے ہیں۔ عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے حکم دیا کہ ایف آئی آر درج کی جائے۔


