حیدرآباد (دکن فائلز) کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کا قیمتی ووٹ، جو جمہوریت کی بنیاد ہے، اسے خاموشی سے ہٹایا جا سکتا ہے؟ آج ہم ایک ایسے معاملے پر بات کریں گے جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے، اور یہ براہ راست آپ کے جمہوری حقوق سے جڑا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) اور چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ملک میں منظم طریقے سے ووٹوں کو حذف کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل جمہوریت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
راہول گاندھی نے کہا کہ یہ صرف ایک الزام نہیں بلکہ ٹھوس شواہد پر مبنی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ وہ ان لوگوں کی حفاظت کر رہا ہے جو ہندوستانی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ الزامات ایک پریس کانفرنس میں لگائے گئے، جس نے سیاسی حلقوں میں طوفان برپا کر دیا ہے۔
الزامات کی تفصیل: ووٹوں کی چوری کا منظم منصوبہ
راہول گاندھی نے کرناٹک کے الاند حلقے میں ووٹوں کو حذف کرنے کی کوششوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 6018 ووٹوں کو مرکزی سافٹ ویئر اور کرناٹک سے باہر کے فون نمبرز کا استعمال کرتے ہوئے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ یہ ایک منظم سازش کا حصہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دلتوں، آدی واسیوں اور اقلیتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے ووٹوں کو انتخابی فہرستوں سے منظم طریقے سے ہٹایا جا رہا ہے تاکہ انہیں حق رائے دہی سے محروم کیا جا سکے۔ یہ عمل جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
راہول گاندھی نے مزید کہا کہ مہادیو پورہ اسمبلی حلقے میں بھی ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی “چوری” کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے “ووٹ چوری” قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری جمہوریت پر ایک “ایٹم بم” ہے۔ یہ الزامات 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔
الیکشن کمیشن پر سوالات: شفافیت کا فقدان
راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر براہ راست حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار ان لوگوں کی حفاظت کر رہے ہیں جو جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سی ای سی کرناٹک سی آئی ڈی کو تمام تفصیلات فراہم کریں۔
کانگریس لیڈر نے بتایا کہ کرناٹک سی آئی ڈی نے 18 مہینوں میں الیکشن کمیشن کو 18 خطوط لکھے ہیں۔ ان خطوط میں آئی پی ایڈریس اور او ٹی پی کی تفصیلات مانگی گئی تھیں۔ لیکن الیکشن کمیشن نے یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
راہول گاندھی نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن یہ تفصیلات کیوں نہیں دے رہا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ تفصیلات اس مرکزی آپریشن تک لے جائیں گی جہاں سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ سی ای سی گیانیش کمار کو معلوم ہے کہ یہ کون کر رہا ہے، لیکن وہ سی آئی ڈی کو نہیں بتا رہے۔
انہوں نے ایک اور حیران کن مثال پیش کی۔ ایک شخص نے صبح 4:07 بجے ایک ووٹ حذف کرنے کا فارم صرف 36 سیکنڈ میں بھر دیا۔ راہول گاندھی نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ خود 36 سیکنڈ میں یہ فارم بھرنے کی کوشش کریں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کام مرکزی سطح پر، کسی کال سینٹر سے کیا جا رہا تھا۔
الیکشن کمیشن کا ردعمل: الزامات بے بنیاد
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے راہول گاندھی کے الزامات کو “بے بنیاد” قرار دیا ہے۔ کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ 2023 میں الاند اسمبلی حلقے میں ووٹروں کو حذف کرنے کی کچھ ناکام کوششیں کی گئی تھیں۔ اس معاملے میں ای سی آئی نے خود ایف آئی آر درج کروائی تھی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، ریکارڈز بتاتے ہیں کہ الاند اسمبلی حلقہ 2018 میں بی جے پی کے سبھاش گٹیدار نے جیتا تھا۔ جبکہ 2023 میں کانگریس کے بی آر پاٹل نے کامیابی حاصل کی۔ کمیشن نے اپنے دفاع میں یہ حقائق پیش کیے۔
تاہم، الیکشن کمیشن نے کرناٹک سی آئی ڈی کو مطلوبہ تکنیکی ڈیٹا فراہم نہ کرنے کی وجہ نہیں بتائی۔ یہ ڈیٹا اس تحقیقات کے لیے انتہائی اہم ہے جو ووٹوں کی مبینہ چوری کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے کمیشن کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کانگریس کا موقف اور دیگر آوازیں: منظم کوشش
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی ان الزامات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم کوشش ہے۔ یہ بہت واضح ہے کہ الیکشن کمیشن اس کوشش میں شامل ہے۔ راہول گاندھی نے اسے بہت واضح طور پر بے نقاب کیا ہے۔
راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ انہیں الیکشن کمیشن کے اندر سے معلومات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلومات رکنے والی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو صرف ہندوستان کے لوگ ہی بچا سکتے ہیں۔ صرف راہول گاندھی اسے نہیں بچا سکتے۔
سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بھی ای سی آئی کے ردعمل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو راہول گاندھی پر “چیخنے” کے بجائے تحقیقات کا حکم دینا چاہیے تھا۔ ان کے بقول، راہول گاندھی کے الزامات کی تفصیل سے تحقیقات ہونی چاہیے۔
مستقبل کی حکمت عملی: ہائیڈروجن بم کا وعدہ
راہول گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل میں “ووٹ چوری” کے مزید “دھماکہ خیز ثبوت” پیش کریں گے۔ انہوں نے اسے “ہائیڈروجن بم” کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 100 فیصد ثبوت ہیں اور وہ انہیں عوام کے سامنے لائیں گے۔
انہوں نے سی ای سی گیانیش کمار کو ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ راہول گاندھی کا مطالبہ ہے کہ سی ای سی ان فارمز اور او ٹی پیز کی تفصیلات جاری کریں۔ یہ وہ تفصیلات ہیں جو کرناٹک سی آئی ڈی کو بھی نہیں دی جا رہی ہیں۔
راہول گاندھی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت کے قاتلوں کا دفاع نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ نوجوان ان حقائق کو سمجھیں اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔ ان کا مقصد ریاست در ریاست ہونے والی ووٹ چوری کو بے نقاب کرنا ہے۔
جمہوری نظام پر اثرات: ووٹر کا اعتماد
یہ الزامات ہندوستانی جمہوریت کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں۔ اگر ووٹروں کا انتخابی عمل پر سے اعتماد اٹھ جائے تو یہ جمہوریت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کسی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کردار غیر جانبدار اور شفاف ہونا چاہیے۔ اس پر لگنے والے الزامات اس کے وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ان الزامات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ووٹروں کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ ان کا ووٹ محفوظ ہے۔ اور ان کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ جمہوریت میں عوام کی آواز سب سے اہم ہوتی ہے۔ اور اس آواز کو دبانے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔


