حیدرآباد (دکن فائلز) ایک بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر پولیس کے پاس چلا گیا۔ یہ حیران کن واقعہ وجئے واڑہ میں پیش آیا، جہاں ایک گیارہ سالہ بچے نے اپنی ماں کے خلاف اے سی پی سے مدد مانگی۔ اس کی وجہ جان کر آپ بھی سوچ میں پڑ جائیں گے۔
گیارہ سالہ لڑکا اپنی ماں کی شکایت لے کر سیدھا پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ماں اسے فون استعمال نہیں کرنے دیتی اور بار بار پڑھنے کو کہتی ہے۔ اے سی پی درگا راؤ نے جب بچے کی شکایت سنی تو وہ بھی حیران رہ گئے۔ انہوں نے بچے کی بات غور سے سنی اور پھر اس کی ماں کو بھی بلایا۔ یہ واقعہ والدین اور بچوں کے تعلقات پر ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے۔
گیارہ سالہ لڑکے نے اے سی پی کو بتایا کہ اس کی ماں اسے مسلسل پڑھنے کے لیے کہتی ہے۔ وہ اسے فون پر گیمز کھیلنے یا ویڈیوز دیکھنے نہیں دیتی۔ بچہ اپنی ماں کی اس روک ٹوک سے بہت پریشان تھا۔ اسے لگا کہ اس کی ماں اس پر ظلم کر رہی ہے اور اسے آزادی نہیں دے رہی۔ اسی لیے اس نے پولیس سے مدد مانگنے کا فیصلہ کیا۔ یہ شکایت سن کر اے سی پی نے صورتحال کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کی۔
ماں نے بتایا کہ وہ ستیہ نارائن پورم کی رہائشی ہے۔ شوہر سے علیحدگی کے بعد وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہے۔ وہ ایک دکان پر کام کرتی ہے اور بڑے بیٹے کو بھی ایک دکان پر کام پر لگایا ہے۔ اپنی محدود آمدنی سے وہ گھر چلاتی ہے اور چھوٹے بیٹے کو پڑھا رہی ہے۔ اس نے چھوٹے بیٹے کو فون اس لیے دیا تھا تاکہ وہ گھر میں اکیلا نہ ہو۔
ماں کی کہانی سن کر اے سی پی درگا راؤ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے بچے کو سمجھایا کہ اس کی ماں کتنی محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے بچے کو بتایا کہ اگر اس عمر میں وہ نہیں پڑھے گا تو مستقبل میں اسے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اے سی پی نے بچے کو ماں کی قربانیوں کا احساس دلایا۔ انہوں نے اسے بتایا کہ ماں کی ڈانٹ اس کی بھلائی کے لیے ہے۔ بچے کو سمجھایا گیا کہ اسے اپنی ماں کے دکھوں کو سمجھنا چاہیے اور خوب دل لگا کر پڑھنا چاہیے۔


