بڑی خبر : اعظم خان کو لگاتار تیسری راحت: جیل سے رہائی کا راستہ ہموار

حیدرآباد (دکن فائلز) اعظم خان کے حامیوں کےلئے ایک ہفتے میں تیسری بڑی خبر سامنے آئی ہے! سماج وادی پارٹی کے قدآور رہنما اعظم خان کو ایک اور مقدمے میں ضمانت مل گئی ہے۔ کیا یہ ان کی جیل سے رہائی کی طرف آخری قدم ہے؟ آئیے جانتے ہیں اس اہم پیش رفت کی مکمل تفصیلات۔

سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق کابینہ وزیر اعظم خان کو ایک ہفتے کے اندر تیسری بڑی راحت ملی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں رامپور کے مشہور کوالٹی بار پر غیر قانونی قبضے کے معاملے میں ضمانت دے دی ہے۔ یہ خبر ان کے حامیوں کے لیے امید کی نئی کرن لے کر آئی ہے۔

اس ضمانت کے بعد، اعظم خان پر درج تقریباً تمام مقدمات میں انہیں ضمانت مل چکی ہے۔ اس سے ان کی جیل سے جلد رہائی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ جسٹس سمیر جین کی سنگل بینچ نے اعظم خان کی ضمانت کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔

یہ معاملہ رامپور کے سول لائنز تھانہ علاقے میں واقع سعید نگر ہردوئی پٹی میں کوالٹی بار پر مبینہ غیر قانونی قبضے سے متعلق ہے۔ 2019 میں ریونیو انسپکٹر اننگ راج سنگھ نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

ابتدائی طور پر پولیس نے چیئرمین سید ظفر علی جعفری، اعظم خان کی اہلیہ ڈاکٹر تزین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم خان کو نامزد کیا تھا۔ بعد میں تفتیش کے دوران سماج وادی رہنما اعظم خان کو بھی اس معاملے میں ملزم بنایا گیا۔ یہ کیس کافی عرصے سے زیر بحث تھا۔

اعظم خان کی جانب سے وکیل عمران اللہ نے عدالت میں دلیل دی کہ ان کے موکل کو سیاسی رنجش کی وجہ سے اس معاملے میں پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ 2019 میں درج ہوا تھا، لیکن اعظم خان کو 2024 میں ملزم بنایا گیا۔ یہ تاخیر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

دوسری جانب، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے ضمانت کی مخالفت کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اعظم خان کا ایک طویل مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے وقت اعظم خان شہری ترقیات کے وزیر تھے اور انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا۔

یہ اعظم خان کو ملنے والی تیسری مسلسل راحت ہے۔ اس سے پہلے 10 ستمبر کو ہائی کورٹ نے انہیں ڈونگرپور معاملے میں ضمانت دی تھی۔ یہ بھی ایک اہم پیش رفت تھی جس نے ان کی رہائی کی امیدیں بڑھا دی تھیں۔ اس کے علاوہ، دو دن پہلے 16 ستمبر کو رامپور کی عدالت نے انہیں توہین عدالت کے ایک معاملے میں بری کر دیا تھا۔ ان لگاتار فیصلوں نے اعظم خان کے لیے جیل سے باہر آنے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔

عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے اعظم خان کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ وکیل عمران اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اعظم خان پر درج تمام مقدمات میں انہیں ضمانت مل چکی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب ان کی جیل سے جلد رہائی کی امید ہے۔ یہ سماج وادی پارٹی اور ان کے حامیوں کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ سب کی نظریں اب ان کی رہائی کی رسمی کارروائیوں پر مرکوز ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں