حیدرآباد (دکن فائلز) کیا کوئی ماں کے ہاتھوں سے کھلائی گئی ایک روٹی کا قرض ادا کر سکتا ہے؟ راجستھان کے بھیلواڑا سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ اصغر علی خان نے اپنی ہندو ماں (منہ بولی) کے انتقال پر یہ الفاظ کہے۔ انہوں نے اپنی منہ بولی ہندو ماں شانتی دیوی کی آخری رسومات ایک سگے بیٹے کے طور پر پورے احترام کے ساتھ ادا کئے اور ارتھی کو کندھا دیا۔
آواز دی وائس کی رپورٹ کے مطابق گاندھی نگر کے جنگی چوک میں رہنے والی 67 سالہ شانتی دیوی کا اتوار کو انتقال ہو گیا۔ وہ کچھ عرصے سے بیمار تھیں ۔ شوہر اور تین اولادیں کھونے کے بعد وہ اکیلی رہ رہی تھیں۔ شانتی دیوی کے بعد یہ سوال اٹھا کہ ان کی آخری رسومات کون ادا کرے گا۔ ایسے میں اصغر علی خان آگے بڑھے اور انہوں نے یہ ذمہ داری پورے احترام کے ساتھ سنبھائی۔
اصغر کے مطابق شانتی دیوی اور ان کا خاندان 30 برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ان کے والدین اور شانتی دیوی کے شوہر میلے ٹھیلوں میں دکانیں لگاتے تھے۔ اصغر بچپن سے ہی انہیں ‘ماوسی ماں’ کہتے تھے۔ 2010 میں شوہر کے انتقال کے بعد، شانتی دیوی اصغر کی گلی میں کرایہ پر رہنے لگیں۔
چند برس بعد، ان کے جوان بیٹے کی بھی موت ہو گئی اور وہ بالکل تنہا ہو گئیں۔ ادھر اصغر کے بھی والدین کا انتقال ہو چکا تھا۔ اصغر کہتے ہیں، “میرے سر سے والدین کا سایہ اٹھ گیا تھا، لیکن شانتی ماوسی نے مجھے کبھی ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔”
انہوں نے کہا کہ ’وہ میرے کھانے پینے کی فکر کرتیں۔ سردیوں میں میرے نہانے کے لیے پانی گرم کرتیں، میرے کپڑے دھوتیں، میرا خیال ایک چھوٹے بچے کی طرح رکھتی تھیں اور میری اہلیہ سے زیادہ میرے لئے فکرمند رہا کرتی تھیں۔
شانتی دیوی جب بیمار ہوئیں تو اصغر نے ان کی ماں کی طرح دیکھ بھال کی۔ جب شانتی دیوی کا انتقال ہوا تو اصغر زار و قطار روپڑے اور کہتے رہے کہ “میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔” اصغر نے اپنے دوستوں کی مدد سے ان کے آخری رسوم کی تمام تیاری کی۔ ان کی ارتھی یاترا میں، علاقے کی مسلم خواتین بھی اپنے آنسو روک نہ سکیں۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت اور انسانیت کی تعلیم ہر مذہب میں دی جاتی ہے جبکہ کچھ فرقہ پرست طاقتیں اپنے سیاسی مفاد کےلئے معاشرہ میں منافرت پھیلانے میں مصروف ہیں۔


