فلسطین کےلئے فنڈنگ کا الزام، اترپردیش اے ٹی ایس نے مہاراشٹرا کے 3 مسلم نوجوان کو گرفتار کرلیا

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے بھیونڈی سے ایک چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ اتر پردیش اے ٹی ایس نے تین مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جن پر فلسطین کے لیے غیر قانونی طور پر فنڈز جمع کرنے کا الزام ہے۔

اتر پردیش اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (UP ATS) نے مہاراشٹر کے بھیونڈی سے تین نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ فلسطین کے لیے فنڈز اکٹھا کر کے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیج رہے تھے۔ گرفتار شدگان کی شناخت محمد ایان محمد حسین، ابو سفیان تجمّل انصاری اور زید عبدالقادر کے طور پر ہوئی ہے۔

گرفتار مسلم نوجوانوں کے والدین نے پولیس کاروائی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور غیرضروری کاروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’مظلومین کے لئے عطیات جمع کرنا کب سے جرم ہوگیا؟

پولیس کے مطابق، ان تینوں ملزمان نے تقریباً 3 لاکھ روپے کی رقم جمع کی تھی۔ یہ رقم اتر پردیش میں موجود ان کے ساتھیوں کے ذریعے بیرون ملک بھیجی جا رہی تھی۔ یہ تمام لین دین بغیر کسی سرکاری اجازت کے کیے جا رہے تھے۔

اے ٹی ایس نے کئی دنوں سے ان نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ جمعہ سے ہی ان کی نگرانی کی جا رہی تھی اور ہفتہ کو مقامی پولیس کی مدد سے کارروائی کی گئی۔ سب سے پہلے ابو سفیان کو گلزار نگر کے ایک فلیٹ سے پکڑا گیا۔ ابو سفیان سے پوچھ گچھ کے بعد اس نے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے نام بتائے۔ اس کے بعد محمد ایان اور زید کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

تینوں ملزمان کو شانتی نگر پولیس اسٹیشن سے اتر پردیش پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہیں مزید تفتیش کے لیے لکھنؤ منتقل کیا گیا۔ پولیس افسران نے اس معاملے کو فلسطین فنڈنگ سے جوڑا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں