عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے جواب طلب کرلیا

حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی فسادات کے ملزمان کو ضمانت ملے گی یا نہیں اب بھی تجسس برقرار ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے جواب طلب کر لیا ہے۔ یہ کیس ملک بھر میں زیر بحث ہے۔

سپریم کورٹ نے عمر خالد، شرجیل امام، گلفشا فاطمہ اور میران حیدر کی ضمانت کی درخواستوں پر دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ اس سے قبل سرپیم کورٹ میں ضمانت کی عرضی پر دو مرتبہ سماعت کو آگے بڑھایا گیا تھا۔ یہ درخواستیں فروری 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق UAPA کیس میں دائر کی گئی ہیں۔

جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت اب 7 اکتوبر کو ہوگی۔ ملزمان نے 2 ستمبر کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے نو افراد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ مظاہروں کے بہانے “سازشی تشدد” کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ احتجاج کا حق آئین دیتا ہے، لیکن یہ پرامن اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ غیر مسلح اور منظم احتجاج ہی قابل قبول ہے۔

عمر خالد اور شرجیل امام کے علاوہ، گلفشا فاطمہ، میران حیدر، محمد سلیم خان، شفا الرحمان، اطہر خان، عبدالخالد سیفی اور شاداب احمد کی ضمانت بھی مسترد ہوئی۔ تسلیم احمد کی درخواست بھی ایک مختلف بنچ نے رد کر دی تھی۔

یہ تمام افراد UAPA کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر دہلی فسادات کی مبینہ سازش کا الزام ہے۔ خالد، امام اور دیگر ملزمان پر UAPA اور تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ان پر فروری 2020 کے فسادات کا “ماسٹر مائنڈ” ہونے کا الزام ہے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں