کرناٹک میں I Love Mohammad بینر پر غیرضروری اعتراض! شدت پسندوں کے دباؤ میں پولیس نے پوسٹر ہٹادیا

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے بعد اتراکھنڈ، گجرات میں بھی ’آئی لو محمد‘ کے بینر پر غیرضروری اعتراض اور مخالفت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ اب تازہ طور پر کرناٹک میں فرقہ پرستوں نے اپنے پھن کو پھیلایا ہے۔

اطلاعات کے مطابق داونگیرے میں مسلمانوں کی جانب سے اپنے پیارے نبیﷺ سے عشق کا اظہار کرتے ہوئے ’آئی لو محمد‘ کا ایک بینر لگایا گیا، جس پر کچھ شرپسندوں نے غیرضروری اعتراض کیا، جس کے بعد علاقہ میں حالات کشیدہ ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق 24 ستمبر کی رات کرناٹک کے داونگیرے میں کارل مارکس نگر میں “I Love Muhammad” کے بینر کی تنصیب پر دو برادریوں کے نوجوانوں میں جھگڑا شروع ہو گیا۔ یہ تنازعہ رات 10 بجے کے قریب پتھراؤ میں بدل گیا۔ اس دوران کچھ گھروں کو نقصان پہنچا اور ایک لڑکی زخمی ہوگئی۔ جسے سرکاری ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ایس پی داونگیرے، اوما پرشانتھ نے بتایا کہ ایک برادری نے بینر ہٹانے کا مطالبہ کیا، جس پر دونوں طرف سے لوگ جمع ہو گئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کیا۔ ایس پی اوما پرشانتھ کے مطابق، پولیس پانچ منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی اور ہجوم کو منتشر کر دیا۔ بینر کو بھی ہٹا دیا گیا اور اب صورتحال مکمل طور پر پرامن ہے۔

آزاد نگر پولیس کی بروقت کاروائی سے حالات پرامن ہوگئے۔ وہیں مقامی لوگوں نے پولیس کے رویہ پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور یکطرفہ کاروائی کرتے ہوئے بینر نکالنے کا الزام عائد کیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ آئی لو محمد بینر سے کسی کو کیا تکلیف ہوسکتی ہے، اعتراض کرنے والے شدت پسند دراصل ماحول کو بگاڑنا چاہتے تھے اور پولیس ان کے دباؤ میں کام کررہی ہے۔

پولیس نے عوام سے پرامن رہنے اور افواہوں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ملک میں امن و امان کے ماحول کو برقرار رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے تاکہ ملک ترقی کرسکے، لیکن کچھ فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہوئے ملک کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے تحت کچھ ہندوتوا طاقتیں ہندوستانی مسلمانوں کو کسی نہ کسی بہانے نشانہ بنانے کی کوشش میں ہے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بگاڑا جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں