حیدر آباد : مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ حلقہ اسمبلی کو نگل میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب( R&B )اور مقامی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے سڑک کی توسیع کے نام پر محبوب سبحانی کا چھلہ ایک عاشور خانہ اور چار قبرستان کی دیواروں کو جے سی پی کی مدد سے منہدم کر دیا اور قبرستان میں موجود کئے قبروں کو مسمار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے یہ کاروائی کرنے سے قبل سارے علاقہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے علاقہ کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا تا کہ کوئی بھی اس انہدام کے مقام تک نہ جاسکے۔ ریاستی جمعیۃ علماء اس واقعہ کی پرزور مذمت کرتی ہے اور اس بات کو لے کر کوڑ نگل بلکہ پورے ضلع وقار آباد کے مسلمانوں میں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے اور اس پر مزید یہ کہ مقامی نمائندوں اور نو جوانوں کی جانب سے احتجاج کرنے پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
حافظ پیر شبیر احمد نے اسے غیر منصفانہ قرار دیا اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس قسم کی کاروائی قابل مذمت ہے اور کہا کہ اقلیتوں کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والی حکومت کانگریس کا مسلمانوں کے مذہبی مقامات کے ساتھ اس قسم کا رویہ نامناسب ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے بھی اس طرح کا رویہ اختیار کیا تھا جس کی بنا پر مسلمانوں نے ان کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ موجودہ حکومت اس پر سنجیدگی سے اگر غور نہیں کرتی ہے تو ان کیلئے بھی اقتدار سے محرومی کوئی بعید نہیں ۔ ریاستی صدر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس انہدامی کاروائی میں جو عہد یداران ملوث ہے ان کو فوری معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کاروائی کو یقینی بنائیں ۔ ورنہ پوری ریاست میں احتجاج منظم کیا جائے گا۔
صدر جمعیتہ علماء تلنگانہ اور حافظ پیر خلیق احمد جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء تلنگانہ کی ہدایت پر مولا نا عبد اللہ اظہر صدر جمعیۃ علماء ضلع وقار آباد کی ایک ٹیم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اس رپورٹ کے بعد آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔


