حیدرآباد (دکن فائلز) آشرم کے نام پر ایک درجن سے زیادہ نوجوان خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار ہندو سوامی چیتنیا سرسوتی عرف پارتھا سارتھی کے بارے میں ایک ایک کر کے انکشاف سامنے آرہے ہیں۔ 50 دن تک فرار رہنے والے ہندو سوامی کو پولیس نے دو روز قبل آگری کی ایک ہوٹل سے گرفتار کرلیا۔ تحقیقات کے دوران چونکا دینے والے حقائق سامنے آرہے ہیں۔
چیتنیا کا موبائل فون ضبط کرنے والی پولیس اس میں موجود مواد دیکھ کر حیران رہ گئی۔ واٹس ایپ چیٹس سے پتہ چلا کہ ہندو سوامی کئی نوجوان خواتین کو مختلف خواب دکھا کر اپنی طرف مائل کرتا اور پھر اپنی حوس کا نشانہ بناتا۔ اس کے علاوہ، پولیس کو پتہ چلا کہ اس نے کئی خواتین کیبن کریو کے ساتھ اپنی تصاویر اور کئی لڑکیوں کے سوشل میڈیا پروفائلز کے اسکرین شاٹس اپنے فون پر محفوظ کئے۔ اس معاملے میں سوامی کی مدد کرنے والی دو خواتین پیروکاروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
ہندو سوامی چیتنیا، جو پہلے وسنت کنج میں شری شاردھا انسٹی ٹیوٹ آف انڈین مینجمنٹ کے ڈائریکٹر تھا، اس کے خلاف سنگین الزامات ہیں۔ متاثرین نے شکایت کی کہ وہ نوجوان خواتین سے جنسی زیادتی کرتا تھا، فحش پیغامات بھیجتا تھا اور انہیں زبردستی جنسی طور پر ہراساں کرتا۔ الزامات ہیں کہ اس ہندو سوامی نے خواتین کے ہاسٹل میں خفیہ کیمرے بھی نصب کئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ یہ چور بابا پولیس کی تفتیش میں بالکل تعاون نہیں کر رہا تھا اور جھوٹ بول کر پوچھے گئے سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ اس وقت اپنا منہ کھولتا ہے جب ناقابل تردید ثبوت دکھائے جائیں اور سوامی کو اپنی ناجائز حرکات پر کوئی پشیمانی نہیں ہے۔
پولیس کو پتہ چلا کہ ہندو سوامی چیتنیا آنند جنسی ہراسانی کے علاوہ اور بھی کئی فراڈ میں ملوث تھا۔ پولیس نے بتایا کہ وہ اقوام متحدہ (یو این) اور برکس ممالک کا سفیر ہونے کا دعویٰ کرکے جعلی وزیٹنگ کارڈ بنایا تھا اور لوگوں کے بیچ جارہا تھا۔ جب ایک متاثرہ کے والد نے اس کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی تو سوامی کے پیروکار ہری سنگھ کوپکوٹی نامی شخص نے اسے دھمکی دی۔ پولیس نے اسے بھی گرفتار کرلیا۔ غریب خاندانوں کی تقریباً 17 طالبات نے پولیس کو بتایا کہ چیتانانند نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہندو سوامی چیتانانند نے دیگر کئی خواتین کو بھی جنسی طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔


