ہندوتوا کی ٹھیکہ دار پرگیہ ٹھاکر نے پھر اگلا زہر! مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر، اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش

حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوتوا طاقتیں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکاتے ہوئے ملک میں امن و امان خراب کرنے کا ناپاک منصوبہ بنارہے ہیں۔ مالیگاؤں دھماکوں کے کیس میں بری ہونے والی پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے بھوپال میں درگا واہنی شاستر پوجن کے دوران متنازع بیانات دیے۔ انہوں نے ہندو خواتین پر زور دیا کہ وہ مسلم مردوں سے دور رہیں اور انہیں گھر کے کاموں کے لیے نہ رکھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرگیہ ٹھاکر نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیزی کرتے ہوئے بے بنیاد الزامات عائد کئے اور اسلام کو بدنام کرنے کی انتہائی گھناؤنی کوشش کی۔ دیگر ہندوتوا شدت پسندوں کی طرح پرگیہ ٹھاکر نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انتہائی نامناسب تبصرے کئے۔ انہوں نے کہا کہ “جب دشمن (مسلمان) آئے تو اسے آدھا کاٹ دو۔” انہوں نے کھلے عام جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ “میاں میں بھائی بہن کا رشتہ نہیں ہوتا۔” ان کے مطابق، اگر وہ اپنی بہنوں کا احترام نہیں کرتے تو دوسروں کا کیسے کریں گے؟

پرگیہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے وہ صرف اسلام کو بدنام کرنا چاہتی ہے۔ اسلام نے ہی عورت کو عزت بخشی ہے۔ رشتوں کا احترام اور حقوق ادا کرنے کا صحیح درس، اگر کسی مذہب نے دیا ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔

پرگیہ نے مزید زہر اگلتے ہوئے ہندو خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ مسلم مردوں کو گھر کے کاموں جیسے لائٹ فٹنگ یا نل کی مرمت کے لیے نہ بلائیں۔ انہوں نے مندروں کے قریب مسلم دکانوں سے کھانا خریدنے سے بھی گریز کرنے کا بھڑکاؤ مشورہ بھی دیا۔ اشتعال انگیزی کرتے ہوئے پرگیہ نے کہا کہ ایسے دکانداروں کو مار پیٹ کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنا چاہئے۔

پرگیہ ٹھاکر کے یہ بیانات ان کے اشتعال انگیز تقاریر کے طویل سلسلے کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ ہندوؤں کو گھروں میں ہتھیار رکھنے اور انہیں تیز رکھنے کی ترغیب دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر سبزیاں اچھی طرح کٹ سکتی ہیں، تو دشمن کا سر بھی۔”

وہ اکثر “لو جہاد” کی بے بنیاد سازشوں کا حوالہ دیتی ہیں اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کے بیانات کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور ان کے بائیکاٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

مدھیہ پردیش میں اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے ٹھاکر کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے “قابل اعتراض” قرار دیا اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلم مخالف کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔

سنگھار نے کہا کہ جب مدھیہ پردیش بے روزگاری، مہنگائی اور بھرتی گھوٹالوں سے دوچار ہے، بی جے پی ایسے بیانات کا استعمال عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کرتی ہے۔

پرگیہ کے بیانات ملک میں اسلامو فوبیا کو بڑھاوا دیتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ پولیس نے اس سلسلہ میں ایف آئی آر درج کرلی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر ان بیانات کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ایسے بیانات نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں آتے ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے بیانات دینے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کرے اور ملک میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے اقدامات کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں