حیدرآباد (دکن فائلز) کیا آپ نے “نکاح النفحۃ” کے بارے میں سنا ہے؟ یہ ایک ایسی نئی اصطلاح ہے جو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی حقیقت انتہائی خطرناک اور شرعی طور پر باطل ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ مصر کے دار الافتاء نے اس گمراہ کن عمل کے بارے میں کیا فتویٰ جاری کیا ہے اور کیوں ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔
العربیہ اردو کی رپورٹ کے مطابق “نکاح النفحۃ” دراصل مرد اور عورت کے درمیان ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں مہر کی بات تو ہوتی ہے، طلاق کی آزادی بھی ہوتی ہے، اور اولاد کو قبول کرنے کا اختیار بھی والد پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ ولی کی موجودگی، باقاعدہ گواہوں، رسمی دستاویزات یا اعلان کے بغیر ہوتا ہے۔ یہ نکاح کے بنیادی شرعی ارکان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دار الافتاء نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ شرعی نکاح کی بجائے حرام تعلقات کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس میں ولی کی غیر موجودگی، نکاح کو چھپانا، اور نسب کو والد کی مرضی پر چھوڑ دینا شامل ہے، جو اسلامی نکاح کے مقاصد کے سراسر خلاف ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نکاح کو محبت، رحمت، سکون، نسب کی حفاظت اور حقوق کی پاسداری کے لیے مشروع کیا ہے۔ یہ فساد اور شبہات سے بچنے کا ایک پاکیزہ ذریعہ ہے۔ “نکاح النفحۃ” جیسے معاہدے دراصل اللہ کے احکام کے ساتھ حیلے بازی کے مترادف ہیں اور معاشرے میں گمراہی اور فساد پھیلاتے ہیں۔
اسلام نے انسانی فطرت کا احترام کرتے ہوئے نفسانی خواہشات کو منظم کیا ہے تاکہ عزت و وقار اور خاندانی استحکام برقرار رہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے: “اے نوجوانوں کے گروہ! جو تم میں سے شادی کی استطاعت رکھتا ہو، وہ شادی کر لے، اور جو نہ رکھتا ہو، وہ روزہ رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے حفاظتی تدبیر ہے۔”
اسلام میں نکاح ایک محفوظ نظام کے تحت ہوتا ہے جس میں شرائط اور ارکان کا دھیان رکھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف خواہش کی تکمیل نہیں بلکہ ایک مستحکم خاندان کی بنیاد رکھنا ہے۔ شرعی نکاح میں اعلان، رضا، توثیق اور ولی کی موجودگی لازمی ہے تاکہ حقوق محفوظ رہیں اور کوئی فریق استحصال کا شکار نہ ہو۔
دار الافتاء نے سختی سے کہا ہے کہ “نکاح النفحۃ” شرعی مقاصد کے خلاف اور باطل ہے۔ اسے کسی بھی صورت میں اختیار کرنا جائز نہیں، خواہ اسے “شرعی نکاح” کا نام دیا جائے۔ یہ ایک گمراہ کن بدعت ہے جو ہمارے دین اور معاشرتی اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم دین کے صحیح احکامات کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ “نکاح النفحۃ” جیسی بدعات سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔ اگر آپ نکاح کرنا چاہتے ہیں تو شرعی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق کریں تاکہ آپ کے حقوق محفوظ رہیں اور آپ کی عزت و وقار برقرار رہے۔


