حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش میں آئی لو محمد کے پوسٹرز اور ویڈیوز دکھانے پر مسلمانوں کی گرفتاریوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا یہ محض فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش ہے، یا آزادی اظہار پر قدغن؟ اس طرح کے واقعات ملک بھر میں تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔
مسلم میرر کی رپورٹ کے مطابق ریاست اتر پردیش میں دس مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا کیونکہ انہوں نے “آئی لو محمد” کے پوسٹرز اور ویڈیوز کو شیئر کیا۔ حکام کے مطابق، پوسٹرز اور ویڈیوز ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑ سکتے ہیں۔ ان گرفتاریوں نے ملک بھر میں آزادی اظہار اور مذہبی شناخت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
قبل ازیں آئی لو محمد مہم اس وقت شروع ہوئی جب کانپور پولیس نے میلاد النبیﷺ کے جلوس میں آئی لو محمد کے پوسٹر پر اعتراض کرتے ہوئے متعدد مسلمانوں کو گرفتار کیا۔ گرفتاری کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا اور مظاہرین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ وہیں پولیس نے اس کی تردید کی تھی۔
ندیم، کپڑا تاجر، کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے اس ویڈیو کو “قابل اعتراض” قرار دیا۔ ان پر عوامی فساد پر اکسانے اور ہندوستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات لگائے گئے۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آدتیہ بنسل نے کہا کہ یہ ویڈیو لوگوں کو اکسانے کی کوشش تھی۔
میرٹھ کے ماوانا میں بھی اسی طرح کی گرفتاریاں ہوئیں۔ ادریس، تسلیم، گلفام اور ریحان کو سگنل کے قریب ایک پوسٹر لگانے کے بعد حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے میرٹھ میں چار مزید افراد کو “خیروا قصبے میں بے چینی پھیلانے کی سازش” کے الزام میں گرفتار کیا۔ فیض، نفیس، عابد اور محمد لقمان کو ایک آڈیو پیغام شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا، جس کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ہجوم کو اکسا سکتا ہے۔
یہ گرفتاریاں آزادی اظہار، مذہبی شناخت اور عقیدے پر مبنی مظاہروں کی پالیسی پر اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔ کیا ایک سادہ پیغام فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑ سکتا ہے؟ یہ بحث اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔


