حیدرآباد (دکن فائلز) اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی روح کو تڑپا دینے والی داستانیں سامنے آرہی ہیں۔ غزہ کے سینکڑوں قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ رہائی کے بعد ان کی کربناک گواہیاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1978018966414282948
اسرائیلی جیل میں 20 ماہ قید کے بعد گزشتہ روز رہا ہونے والے غزہ کے فوٹو جرنلسٹ شادی ابو سیدو نے قید کے دوران ہونے والے سنگین مظالم اور اذیت ناک حالات کی تفصیل بیان کردی۔ ابو سیدو کے مطابق اسرائیلی قید خانوں میں قیدیوں کو ناقابلِ بیان تشدد، بھوک اور نفسیاتی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1978102768075174365
شادی ابو سیدو نے بتایا کہ جیل میں اسرائیلی فوجیوں نے انہیں بتایا کہ ‘ہم نے تمہارے بچوں کو مار دیا ہے، غزہ ختم ہو گیا ہے‘۔ غزہ پہنچنے پر شادی ابو سیدو کو خبر ملی کے ان کے بچے اور خاندان کے دیگر افراد خیریت سے ہیں، اپنے گھر پہنچ کر جب انہوں نے اپنے بچوں کو دیکھا تو سکتے میں آگئے۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1977796282505626035
اسرائیل کی سخت قید سے رہائی پانے والے ایک اور فلسطینی نے اپنی دردناک داستان بیان کی۔ عبداللّٰہ ابو رافع نے بتایا کہ وہ جیل نہیں بلکہ مذبح خانے میں بند تھے۔ وہاں قیدیوں کے لیے گدے تک نہیں تھے۔ محمد الخلیلی کو 19 ماہ تک بغیر کسی الزام کے قید رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں مارا، ڈرایا اور دھمکایا گیا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1977802799569305879
محمد الخلیلی ان فلسطینیوں میں شامل تھے جنہیں حال ہی میں رہا کیا گیا۔ الجزیرہ کے نمائندے ابراہیم الخلیلی نے 19 ماہ بعد اپنے بھائی سے ملاقات کی۔ دونوں بھائیوں کو غزہ سٹی میں اسرائیلی زمینی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1978095232550834506
غزہ پٹی کے زیادہ تر فلسطینیوں کو اجتماعی گرفتاریوں میں اٹھایا گیا تھا۔ بیشتر کو کسی الزام یا عدالتی کارروائی کے بغیر قید میں رکھا گیا۔ یہ غیر انسانی سلوک عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جنگ بندی کے باوجود غزہ کے لاکھوں لوگ بے گھر اور بھوکے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ فلسطینی عوام مزید امداد کی آمد کے منتظر ہیں۔ بہت سے لوگ علاج کے منتظر ہیں، جب کہ دوسرے رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی خبر سننے کے لیے بے تاب ہیں۔ تاکہ لوگ غزہ سے نکل یا واپس آ سکیں۔
ان فلسطینیوں میں جنہیں ابھی تک اسرائیل نے رہا نہیں کیا، ڈاکٹر حسام ابو صفیہ بھی شامل ہیں۔ وہ غزہ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر ہیں، جنہیں دسمبر 2024 میں اغوا کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل کے مطابق، ابو صفیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کی رہائی کے لیے عالمی مطالبات کے باوجود، اسرائیل نے انہیں اب تک آزاد نہیں کیا۔ ابو صفیہ غزہ کے طبی عملے کی مزاحمت اور استقامت کی علامت ہیں۔
اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے جب گھر لوٹے تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ پورے پورے خاندان اسرائیل جارحیت کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے تھے۔ ایک نوجوان جب گھر پہنچا تو بیوی، بچوں اور ماں کو زندہ دیکھ کر خوشی کے آنسو نہ رک پائے۔
عمر قید کاٹنے والے طارق البرغوثی گھر لوٹے تو اہلخانہ چومتے رہے۔ کھنڈر بنے غزہ میں جب ایک نوجوان اپنے گھر پہنچا تو در و دیوار سلامت دیکھ کر خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔


