حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے چادرگھاٹ میں پولیس کو اس وقت فائرنگ کرنی پڑی جب دو چوروں نے ڈی سی پی پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کمشنر سی وی سجنار نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور میڈیا کو تفصیلات سے واقف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کی شام حیدرآباد کے چادرگھاٹ علاقے میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ سیل فون چوروں کو پکڑنے کی کوشش میں پولیس پر حملہ کیا گیا۔
دو چوروں نے پولیس اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ڈی سی پی اور ان کے گن مین کو نشانہ بنایا گیا۔ اپنی جان بچانے کے لیے پولیس نے دو راؤنڈ فائرنگ کی۔ اس جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان زخمی ہو گئے۔
فائرنگ میں زخمی ہونے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ مرکزی ملزم کی شناخت عمر کے نام سے ہوئی ہے۔ اس پر پہلے ہی 25 مقدمات درج ہیں اور وہ ایک روڈی شیٹر ہے۔
سجنار نے میڈیا کو بتایا کہ عمر پر دو بار پی ڈی ایکٹ لگایا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ 2016 اور 2020 میں اسے ایک سال کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد بھی اس نے جرائم جاری رکھے۔ کالا پتھر پولیس اسٹیشن میں اس پر مزید دو مقدمات درج ہوئے۔
زخمی ملزمان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔


