ارتدادی فتنوں سے حفاظت اور دینی بیداری کے لئے کاماریڈی میں ذمہ دارانِ مساجد کا اہم اجلاس

کاماریڈی : ارتدادی فتنوں سے تحفظ اور دینی بے راہ روی سے بچاؤ کے لئے ذمہ دارانِ مساجد کا فکرمند ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر مدرسہ مصباحُ الہدیٰ، مسجدِ نور، اندرانگر کالونی کاماریڈی میں جناب الحاج محمد انور صاحبِ کی سرپرستی میں ذمہ دارانِ مساجد اور معلمین کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ صد فیصد بچوں کو مسجد و مکتب سے جوڑنا، قرآن کی تعلیم عام کرنا، اور اسلامی تربیت کو فروغ دینا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے، اور تحفظ عقائد پر اہم ترین ضرورت ہے، کیونکہ ماحول اور صحبت کا اثر براہِ راست انسان کے اخلاق و کردار پر پڑتا ہے، حافظ محمد فہیم الدین منیری صاحب (جمعیۃ علماء کاماریڈی) نے اپنے پراثر خطاب میں کہا کہ “بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ خواتین و طالبات کے لیے ہفتہ وار اجتماعات اور اصلاحِ معاشرہ کے پروگرام ناگزیر ہیں، تاکہ گھروں اور معاشرے دونوں میں دینی روشنی عام ہو، مساجد کی حفاظت آبادیِ مساجد سے ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں گے تو حالات بدلیں گے، اور جب حالات بدلیں گے تو حکمرانوں کے فیصلے بھی بدلیں گے۔ جیسے اعمال اوپر جائیں گے ویسے ہی فیصلے نیچے آئیں گے، اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم پڑوسیوں کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے، بلا لحاظ مذہبی وابستگی، سب کے ساتھ خیر خواہی اور حسنِ سلوک کا جذبہ پیدا کریں، کیونکہ اسلام انسانیت کی بھلائی اور اجتماعی خیر کی تعلیم دیتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت مولانا شاہ منیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی تمنا اور کوشش یہی تھی کہ ہم اللہ والے بنیں اور اللہ کے معاملے میں راست بازی اختیار کریں۔ حضرت رحمہ اللہ کے فکروں کے امین و جانشین، حضرت مولانا مفتی عبدالرشید قاسمی مظاہری کی سرپرستی میں ہمہ مقصدی اصلاحی و تربیتی ایک روزہ اجتماعی کا انعقاد 19 نومبر بروز بدھ عصر تا 20 نومبر بروز جمعرات عشاء طے پایا۔

اس مشاورتی اجلاس میں مولانا عمران قاسمی صاحب نے “اللہ والوں کی صحبت سے فیض حاصل کرنے” کے عنوان پر جامع خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “اللہ والوں کی صحبت اور ان کے فیض سے دنیا و آخرت دونوں کی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اللہ والوں کی قدر کریں تاکہ عام و خاص سب ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہو سکیں۔”

مولانا شیخ احمد مظاہری نے اپنی گفتگو میں علماء کرام کے استفادے کے لئے حضرت رحمہ اللہ کے جانشین سے رابطے کو مضبوط بنانے اور پروگرام کے ایک حصے کو علماء کے لئے مخصوص کرنے کی تجویز پیش کی۔ اجلاس میں حافظ مشتاق حلیمی، حافظ محمد یوسف حلیمی، اور دیگر علماء، حفاظ و صدورِ مساجد نے حالاتِ حاضرہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اللہ والوں کی صحبت سے استفادے پر زور دیا۔

اجلاس کی نظامت مولانا سید منظور احمد مظاہری نے نہایت حسنِ انتظام کے ساتھ انجام دی، جبکہ حافظ عبدالواجد حلیمی نے خلوص و تشکر کے کلمات پیش کئے۔ آخر میں صدورِ مساجد، علماء، ائمہ اور معلمین کرام نے مکاتب کے استحکام، دینی تعلیم کے فروغ، اور اسلامی تربیت کو مؤثر بنانے کے لیے مستقل اجتماعیت کے ساتھ کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

اجلاس کا اختتام الحاج محمد انور (مجازِ صحبت حضرت مولانا منیر احمد صاحب نور اللہ مرقدہ) کی پُرسوز دعا پر ہوا۔ اس موقع پر حافظ محمد عبدالرحمن حلیمی (ناظم ادارہ اسلام، جواہر نگر) نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔ حافظ محمد تقی الدین منیری حافظ سید عمران مولانا شعیب خان قاسمی محمد جاوید علی خازن مدرسہ شیخ مقیم الدین معتمد مسجد نور وذمہ داران نے مہمانوں کا استقبال کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں