حیدرآباد (دکن فائلز) بنگلادیش کی سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو گزشتہ سال ملک میں بھڑک اٹھنے والی پرتشدد آندولनों کے سلسلے میں قائم کیے گئے مقدمات میں بین الاقوامی کرائم ٹریبونل نے انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب قرار دیا ہے۔ ٹریبونل کے مطابق شیخ حسینہ پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے واضح احکامات جاری کیے، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
ٹریبونل کے جج نے فیصلے میں کہا کہ گزشتہ برس جولائی اور اگست کے دوران ہونے والی کارروائیوں میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس کی مکمل ذمہ داری اس وقت کی حکومت اور اس کی سربراہ شیخ حسینہ پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی بتایا کہ 5 اگست کو دارالحکومت ڈھاکا میں احتجاج کو کچلنے کے لیے فوج نے فائرنگ کی، جبکہ ہیلی کاپٹروں اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے احکامات بھی اعلیٰ سطح سے دیے گئے تھے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے سے انکار اور احتجاج کو بزور طاقت دبانے کی پالیسی کو بھی جرم کا حصہ قرار دیا گیا۔
فیصلے میں سابق وزیرِداخلہ اسدالزماں خان کمال اور سابق پولیس سربراہ چوہدری عبداللہ المامون کو بھی انسانیت کے خلاف جرائم میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ٹریبونل کے مطابق قتل، قتل کی کوشش، تشدد اور دیگر غیر انسانی کارروائیوں میں ان تینوں کا کردار ثابت ہو چکا ہے۔
فیصلے سے قبل ڈھاکا سمیت کئی شہروں میں احتجاج بھڑک اٹھا، جس کے بعد عبوری یونس حکومت نے سیکیورٹی سخت کردی۔ ڈھاکا پولیس چیف نے ہدایت کی کہ گاڑیوں کو آگ لگانے یا بم پھینکنے کی کوشش کرنے والوں پر گولی چلانے سے دریغ نہ کیا جائے۔


