مدینہ کے قریب بس حادثہ؛ جاں بحق 45 حیدرآبادی معتمرین کی مکہ میں نماز جنازہ و تدفین کے انتظامات، متاثرین کے 35 رشتہ داروں کے علاوہ تلنگانہ کا سرکاری وفد سعودی عرب پہنچ گیا

حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب میں مدینہ منورہ کے قریب پیش آنے والا دل خراش سڑک حادثہ حیدرآباد سمیت پورے ملک کے لیے صدمے کا باعث بن گیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرنے کے بعد مدینہ کی زیارت کے لیے روانہ ہونے والے حیدرآباد کے 46 عازمین کو لے جانے والی بس ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آگئی، جس کے نتیجے میں 45 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اس دوران بس میں موجود صرف ایک شخص، عبدالشعیب محمد زندہ بچ پائے، جو اس وقت ایک سعودی اسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج ہیں۔

تلنگانہ حکومت نے فوری طور پر کنٹرول روم قائم کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی وزیرِ اقلیتی امور محمد اظہر الدین، سکریٹری اقلیتی بہبود شفیع اللہ اور مجلس کے رکن اسمبلی ماجد حسین پر مشتمل سرکاری وفد پیر کی رات مدینہ روانہ ہوا، جو سعودی حکام سے رابطے میں رہتے ہوئے جاں بحق 45 عمرہ زائدین کی آخری رسومات اور دیگر امور کی نگرانی کرے گا۔ وفد کے علاوہ تلنگانہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے 35 رشتہ دار کو بھی سعودی عرب لے جانے کے انتظامات کئے ہیں، تاکہ مہلوکین کی تدفین مکہ میں ہی عمل میں لائی جائے۔

جاں بحق ہونے والوں میں 18 خواتین، 10 بچے اور 17 مرد شامل ہیں۔ حادثے کا شکار زیادہ تر افراد کا تعلق حیدرآباد کے نلہ کنٹہ، ملے پلی، بازار گھاٹ، آصف نگر، جھرہ، مہدی پٹنم اور تولی چوکی سے تھا۔ یہ سبھی افراد 9 نومبر کو چار مختلف ٹراول ایجنسیوں کے ذریعے عمرہ کے سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ 54 رکنی گروپ میں سے چار افراد مدینہ کار سے گئے تھے اور چار مکہ میں ہی ٹھہرے، جب کہ 46 مسافر بس کے ذریعے مدینہ کے لیے روانہ ہوئے اور حادثے کا شکار ہو گئے۔

حیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے بتایا کہ بس مدینہ سے تقریباً 25 کلومیٹر دور آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور زیادہ تر مسافر باہر نہ نکل سکے۔

سانحے پر ملک کی اعلیٰ قیادت نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہول گاندھی اور کئی دیگر رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی وزیر اعظم مودی سے بات کر کے افسوس کا اظہار کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سعودی عرب اور تلنگانہ بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہلِ خانہ اپنے پیاروں کے اچانک بچھڑ جانے پر غم سے نڈھال ہیں، وہ مقدس سفر پر گئے تھے، مگر واپس نہ لوٹ سکے۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں