اہم خبر: ’ہمسایوں کے حقوق‘ اجاگر کرنے جماعت اسلامی کی دس روزہ ملک گیر مہم (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سادات اللہ حسینی نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ہمسایوں کے حقوق کے موضوع پر 21 سے 30 نومبر 2025 تک ایک جامع مہم چلائی جائے گی، جس کا نعرہ ہوگا مثالی پڑوس مثالی سماج۔ اس مہم کا مقصد ہمسایوں کے درمیان حسن سلوک، خیر خواہی اور باہمی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔

میڈیا کو جاری بیان میں صدر جماعت نے کہا کہ اسلام میں ہمسایوں کے حقوق کو بنیادی اور غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قرآن مجید نہ صرف قریبی ہمسایوں بلکہ عارضی ہمسایوں جیسے راستے کے ساتھیوں، دفتر کے شریک کاروں، سفر کے ہمراہیوں اور عام راہگیروں تک کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے مسلمانوں کو ان بنیادی اسلامی اصولوں کی نئی یاد دہانی کرانا مقصود ہے تاکہ وہ مثالی ہمسایہ بن کر اسلام کی حقیقی روح معاشرے کے سامنے پیش کریں۔

سید سادات اللہ حسینی نے مزید کہا کہ اچھے ہمسایگی پر قائم معاشرہ ہی حقیقت میں مثالی معاشرہ ہوتا ہے۔ جب ہمسایے ایک دوسرے کے ساتھ نرمی، درگزر، تعاون اور انصاف کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو یہ طرز عمل پورے سماج پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مہم نہ صرف ہمسایوں کے درمیان پائے جانے والے تنازعات میں کمی کا سبب بنے گی بلکہ اسلامی اقدار جیسے رحم، شفقت اور سماجی ذمے داری کو بھی عملی طور پر نمایاں کرے گی۔

مہم کے قومی کنوینر محمد احمد نے بتایا کہ یہ مہم خاص طور پر شہروں میں بڑھتی ہوئی انفرادیت پسندی کے تناظر میں رکھی گئی ہے، جہاں ہمسایوں کے تعلقات کمزور پڑتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی ہمدردی، تعاون، صفائی کا اہتمام اور ٹریفک ڈسپلن جیسے امور کو اسلامی سماجی ذمے داری کے طور پر اجاگر کرنا اس مہم کا بنیادی حصہ ہے۔

دس روزہ مہم کے دوران ملاقاتوں، چائے کی محفلوں، خواتین اور نوجوانوں کے خصوصی پروگراموں، محلہ صفائی مہم، ٹریفک اور سڑک کے حقوق سے متعلق آگاہی ریلیوں اور مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس دوران غیر مسلم ہم وطنوں سے خصوصی رابطہ کر کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی بڑھانے اور اسلام کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

مزید یہ کہ اپنے ہمسایے کو جانیے جیسے اقدامات، محلہ سطح کی نشستیں اور مقامی کمیٹیوں کی تشکیل کے ذریعے یہ کوشش کی جائے گی کہ مہم کے بعد بھی یہ مثبت روابط برقرار رہیں اور مضبوط تر ہوتے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں