جسٹس سوریہ کانت نے بحیثیت 53ویں چیف جسٹس آف انڈیا حلف لیا

حیدرآباد (دکن فائلز) ملک کے معروف جج جسٹس سوریہ کانت نے پیر کے روز ہندوستان کے 53ویں چیف جسٹس آف انڈیا کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ انہوں نے جسٹس بی آر گوائی کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی، جو 23 نومبر کو 52ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

جسٹس سوریہ کانت کی بطور چیف جسٹس تقرری 30 اکتوبر کو کی گئی تھی، اور وہ تقریباً 15 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔ وہ 9 فروری 2027 کو 65 سال کی عمر پوری کرنے پر ریٹائر ہوں گے۔

10 فروری 1962 کو ہریانہ کے ضلع حصار میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے جسٹس کانت نے ایک چھوٹے شہر کے وکیل سے ملک کے ممتاز قانون دانوں میں شامل ہونے تک کا سفر طے کیا۔ ان کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کئی قومی اور آئینی لحاظ سے اہم فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جسٹس سوریہ کانت نے 2011 میں کرکشیترا یونیورسٹی سے ایل ایل ایم میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن حاصل کرکے علمی میدان میں بھی منفرد مقام حاصل کیا۔

سپریم کورٹ میں تقرری سے قبل انہوں نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں متعدد اہم فیصلے تحریر کیے اور 5 اکتوبر 2018 کو ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے۔ سپریم کورٹ میں ان کی مدتِ کار کے دوران آرٹیکل 370 کی منسوخی، آزادیِ اظہار اور شہریت کے حقوق جیسے اہم معاملات پر ان کے فیصلے خاص طور پر نمایاں رہے۔

بہار میں خصوصی انتخابی فہرست کی نظرثانی کے دوران انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں انہوں نے الیکشن کمیشن کو 65 لاکھ خارج شدہ ووٹروں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی، جسے ایک اہم جمہوری قدم قرار دیا گیا۔

دیہی سطح پر جمہوریت اور صنفی انصاف کے فروغ کے لیے بھی ان کی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے مقدمے میں خاتون سرپنچ کی غیر قانونی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے صنفی تعصب کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔

جسٹس سوریہ کانت خواتین کی نمائندگی میں اضافے کے بھی حامی رہے ہیں۔ انہوں نے بار ایسوسی ایشنز، بشمول سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے کا حکم صادر کیا تھا۔

ملک میں آئینی انصاف، عوامی حقوق اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے حوالے سے جسٹس سوریہ کانت کی خدمات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں