بڑی خبر: امریکہ میں اسلاموفوبیا کا ایک اور شرمناک واقعہ! نمازِ فجر کے دوران مسلم طلبا کو ہراساں کرنے کی گھٹیا حرکت، توحید کے علمبردار نوجوانوں نے ہمت اور حوصلے سے نماز مکمل کی (ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ اسلاموفوبیا کس حد تک ذہنی پستی اختیار کر چکا ہے۔ فجر کی نماز کے دوران چند نوجوانوں کا عبادت میں مصروف مسلم طلبا کے پاس آ کر چیخ و پکار کرنا، گالیوں اور نفرت انگیز جملوں کا استعمال کرنا، اور یہاں تک کہ بیکن لہرا کر مذہبی جذبات مجروح کرنا نہ صرف قابلِ افسوس بلکہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔

تین افراد کرسٹوفر سواچک (واکَو، ٹیکساس)، رچرڈ پینسکوسکی (کینیون، اوکلاہوما) اور ریکارڈو ییپیز (ٹیمپا) نے کولنس بولیوارڈ پارکنگ گیریج Collins Boulevard Parking Garage میں نماز ادا کرتے مسلم طلبا کو اس قدر قریب آ کر ہراساں کیا کہ طلبا کو اپنی سلامتی تک کا خوف لاحق ہوگیا۔ ویڈیوز اور طلبا کے بیانات سے یہ بات واضح ہے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی، مذہبی توہین اور خوف کی فضا پیدا کرنا چاہتے تھے۔

کسی کے عبادت کے لمحے میں مداخلت کرنا، ان کے سجدے کے دوران سر کے بالکل قریب آ کر کھڑے ہونا، مذہب کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگانا، یا قابلِ اعتراض جملے جیسے ’’تمہارے پاس بم تو نہیں؟‘‘ کہنا، کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

یہی نہیں، ایک شخص نے ’’کعبہ 2.0 جیزس از لارڈ‘‘ لکھا ہوا ڈبہ اٹھایا ہوا تھا جبکہ دوسرے نے ’’Jesus is God‘‘ کے الفاظ والا تھوب پہنا ہوا تھا، جیسے وہ گویا مذہبی تنگ نظری کو عمداً مظاہرہ کرنے آئے ہوں۔

مسلم طلبہ نے بتایا کہ وہ عبادت کے دوران خوفزدہ ہو گئے تھے کہ کہیں یہ لوگ جسمانی نقصان نہ پہنچا دیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے نماز مکمل کی جو ان کی ثابت قدمی اور عبادت سے مخلص ہونے کی علامت ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف مذہبی تعصب کا اظہار ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ پولیس نے تینوں افراد پر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے، جو اس عمل کو نفرت انگیز جرم (hate crime) تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی کھلی یاد دہانی ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف سنجیدہ اقدامات اور مزید مضبوط قوانین کی ضرورت ہے تاکہ ایسے ذہنی مریض عناصر دوبارہ کسی کے مذہبی حق پر حملہ نہ کر سکیں۔ مسلم طلبا نے ہمت اور حوصلے سے نماز مکمل کی اور معاشرے کو بھی اسی حوصلے سے نفرت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں