مولا نا حافظ پیر شبیر احمد نے قربانیوں کے ذریعہ جمعیت علماء کو گلش بنایا، اب اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری: مفتی سید سلمان منصور پوری (جمعیتہ علماء تلنگانہ کے انتخابی اجلاس کی تفصیلی رپورٹ)

حیدرآباد (دکن فائلز) مولانا سید احسان الدین قاسمی با اتفاق رائے ریاستی جمعیتہ علماء تلنگانہ کے صدر منتخب ہوئے۔ ریاستی جمعیتہ علماء تلنگانہ کا انتخابی اجلاس 24 نومبر کو جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد میں بعد نماز مغرب منعقد ہوا۔ قاری عبدالباری صاحب کی قرآت کلام پاک اور پیر عبد الوہاب صاحب قاسمی کی نعتیہ کلام سے اجلاس کا آغاز عمل میں آیا۔

حافظ پیر خلیق صابر صاحب نے جمعیتہ علماء کی تین سالہ ریاستی جمعیتہ علماء کی رپورٹ کو پیش کیا ۔ انتخابی بورڈ کے ذمہ دار مولا نا مفتی عمر صاحب بنگلور نے جمعیتہ علماء کے تمام شعبہ جات کا مختصر انداز میں تعارف پیش فرما اور جمعیتہ علماء کے تمام شعبوں سے منسلک ہو کر خدمت کی تلقین کی خصوصا مکا تبیہ دینیہ کے قیام کی طرف توجہ دلائیں۔ مفتی محمد تقل حسین صاحب قاسمی نائب صدر جمعیتہ علماء گریٹر حیدر آباد نے مدنی مزاج اور تھانوی کے فرق کو واضح کرتے ہوئے دلوں کو جھنجونے والا خطاب فرمایا۔

مفتی سید صدیق صاحب مظاہری نائب صدر جمعیة علی ضلع نلگنڈہ نے ریاستی تلنگانہ و آندھرا پردیش میں جمعیتہ علماء کے ابتدائی دور اور اس کے عروج کیلئے جن قربانیوں سے گزر با پڑا اور صدر حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب کی خدمات کو سہرایا اور نہایت فکر انگیز خطاب کیا۔ بعد ازاں جمعیۃ علماء ہند کے معزز رکن عاملہ حضرت مولانا عبدالقوی صاحب مدظلہ نے جمعیۃ علماء تلنگانہ کے صدر کے انتخاب کیلئے مولانا سید احسان الدین صاحب قاسمی مدظلہ کا نام پیش کیا۔ جس کو متفقہ طور پر تمام اراکن منتظمہ نے با اتفاق رائے سے جمعیہ علماء تلنگانہ کا صدر منتخب کر لیا۔

اسی طرح نائب صدور کیلئے چار علماء کرام کا انتخاب عمل میں آیا جس میں حضرت مولانا عبد القوی صاحب، مولانا مصدق القاسمی صاحب، مولانا سعید صاحب مولانا عبد الستار صاحب کا نام شامل ہے اور مولانا مصباحالدین صاحب ریاستی جمعیتہ علماء کے خازن منتخب ہوئے ۔

مبصر کی حیثیت سے تشریف لائے ہوئے مہمان مکرم حضرت مفتی سید سلمان صاحب منصور پوری مدظلہ نائب امیر الہند و جنرل سکریٹری جمعیتہ دینی تعلیمی بورڈ کل ہند نے اپنے خطاب میں فرمایا جماعتی بڑی قربانیوں سے تیار ہوتے ہے اس کی ترقی کیلئے رات کی نیند دن کا سکون سب کچھ قربان کرنا پڑھتا ہے ۔ کر یہ مظبوت ہوتی ہے۔ جمعیت علماء اکابرین کی جماعت ہے۔ اس کے بہت سے شعبہ جات ہیں بہت سے کام کرنے کیلئے باقی ہے۔ ہم سب کو اس کے ساتھ جوڑ کر ایک کام کرنے کیلئے عہدہ نہیں چاہئے کیونکہ عہد و منصب وبال جان ہے کل قیامت کے دن اسی عہدہ کی وجہ سے آدمی اپنے اوپر ملامت کریں گا کہ عہدہ کیوں لیا ۔ آج دنیا میں ہر کسی کو عہدہ کی خاہش ہے مگر یہ کل قیامت کے دن اس کیلئے وبال جان بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہم کو کام کرنے آگے بڑھنا چاہیے نا کہ عہدہ کیلئے ۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کو خیر کے کام کرنے والے پسند ہے۔ شر کے کاموں کو اللہ تعالی پسند نہیں فرماتے آپ نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج وقف کی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے امید بورٹل شروع کیا گیا ہے آپ اس سلسلہ میں شعور بیدار کریں۔ اور اپنے وقف کے زمینوں کی حفاظت کیلئے امید پورٹل میں رجسٹریشن کرنا چاہئے ۔ اس میں کسی قسم کی لا پروائی نہ ہو۔ اور انہوں نے کہا کہ سابق جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کے صدر مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب نے اپنے قربانیوں کے ذریعہ اس جمعیہ کو گلشن بنایا اور گلدستہ میں آپ کو پیش کیا اب اس کی حفاظت کرنا اس کو آگے لیکر چلنا آپ سب کی ذمہ داری ہے ۔

جمعیۃ علماء کے بینر تلے دینی ملی سماجی خدمات کے ذریقہ اس کو اور مضبوط کرنا ہے۔ اس طرح اس اجلاس میں جمعیۃ علماء تلنگانہ کے ضلعی صدور نظمائے اعلی اور (650) سے زائد اراکین منتظمہ نے شرکت اور پر امن طریقہ سے اجلاس کو کامیاب بنایا حافظ پیر خلیق احمد صابر نے جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کے ناظم مولا نا عظیم جنید صاحب مدرسہ کے استاذہ اور طلباء کا شکریہ ادا کیا۔

نائب امیر الہند کی دعا سے اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔ اجلاس کے بعد ریاستی جمعیۃ علماء کا ایک وفد حضرت مولا نا جعفر پاشاہ صاحب مہتمم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدر آباد کی قیام گاہ پنجہ شاہ پہونچ کر حضرت سے ملاقات کی اور حضرت کا شکر ادا کیا۔

اہم خبر: جمعیت العلماء تلنگانہ کے انتخابات: مفتی سید احسان الدین قاسمی بلا مقابلہ صدر منتخب

اپنا تبصرہ بھیجیں