وندے ماترم پر بی جے پی کونسلروں کا غیرضروری ہنگامہ! جی ایچ ایم سی کونسل میدان جنگ میں تبدیل، مجلس کے کارپوریٹروں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا

حیدرآباد (دکن فائلز) جی ایچ ایم سی کونسل کا اجلاس اُس وقت شدید کشیدگی کا شکار ہوگیا جب وندے ماترم کے معاملے پر بی جے پی اور کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ارکان آمنے سامنے آگئے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی ماحول گرم ہوگیا اور چند ہی منٹوں میں کونسل ہال نعروں، تلخ زبان اور شور سے گونج اٹھا۔

مجلس اور بی جے پی کے کارپوریٹروں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے، حتیٰ کہ کچھ ارکان کرسیوں پر چڑھ گئے۔ صورتِ حال بگڑتے دیکھ کر میئر نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نظم نہیں رکھا گیا تو مارشل کے ذریعے ارکان کو باہر نکال دیا جائے گا۔ اس انتباہ کے بعد وقتی طور پر سکون تو دکھائی دیا، مگر فضا بدستور کشیدہ رہی۔

بی جے پی کے ایم پی راگھونندن راؤ نے کونسل میں وندے ماترم گانے کی اجازت مانگی، یہ کہتے ہوئے کہ ترانہ کو 150 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ میئر نے اس مطالبے کو قبول کیا اور ساتھ ہی ریاستی ترانے ’جیا جیا ہے تلنگانہ کو بھی پیش کرنے کا مشورہ دیا، جسے شاعر اندے سری کو خراجِ عقیدت کے طور پر گایا جائے۔

مجلس کے ارکان نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ وندے ماترم گانے کی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ترانہ شروع ہوتے ہی ماحول مزید خراب ہوگیا۔ مجلس کے کارپوریٹر سید سہیل (پتھر گٹی ڈویژن) سمیت کئی ارکان اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے، حتیٰ کہ وندے ماترم اور جیا جیا ہے تلنگانہ دونوں کے دوران کھڑے ہونے سے گریز کیا۔

اس کے بعد بی جے پی کے ارکان نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے مجلس ارکان کی حرکت کو کونسل کی توہین قرار دیتے ہوئے ہنگامہ شروع کردیا، جس سے بعد ہال میں شدید بحث و تکرار کا آغاز ہوگیا۔ تلخی بڑھتی دیکھ کر مارشل ہال میں داخل ہوئے۔

میئر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: کیا آپ لوگ کونسل کو سڑک کا میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں؟ شہر کے مسائل حل کرنے پر زور دیں اور افراتفری مت پھیلائیں۔ میئر کی اپیل پر کچھ وقت کے لیے فضا قدرے پرسکون ہوئی، لیکن ہنگامہ اس قدر بڑھ چکا تھا کہ ایجنڈے پر مزید کارروائی ممکن نہ رہی۔

مسلسل شور اور رکاوٹوں کے باعث میئر نے اجلاس کو فوری طور پر ملتوی کردیا، جس کے بعد ارکان آپس میں الجھتے رہے اور پھر ہال سے باہر آگئے۔ حکام کے مطابق آئندہ اجلاس کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا۔ اس طرح کے ہنگامہ سے نمٹنے کے اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ اس طرح کی رکاوٹیں شہری مسائل کے حل میں تاخیر کا باعث بنتی ہیں۔

بی جے پی ارکان کی غیرضروری ہنگامہ آرائی کے دوران مجلس کے ارکان نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں