تاج محل کے قریب بزرگ مسلم ڈرائیور کو ’جے ایس آر‘ نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا، ہندوتوا شدت پسندوں کی دہشت و غنڈہ گردی کی ایک اور مثال! (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) تاج محل کے قریب مسلم ڈرائیور کو جے ایس آر کا نعرہ لگانے پر کچھ ہندوتوا شدت پسندوں نے مجبور کیا۔ ہندوتوا شدت پسندوں کی غنڈہ گردی اور دہشت کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے آگرہ میں تاج محل کی پارکنگ کے قریب ایک 64 سالہ بزرگ مسلم کیب ڈرائیور کو چند نوجوانوں نے روک کر ہراساں کیا اور زبردستی جے ایس آر کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی ایودھیا رام مندر میں بھگوا جھنڈا لہرانے کے لیے پہنچے ہوئے تھے، اور ملک میں مذہبی کشیدگی پہلے ہی اپنے عروج پر تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں بوڑھے ڈرائیور محمد رئیس واضح طور پر گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ نوجوان بار بار ان پر نعرہ لگانے کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ ویڈیو بنانے والا نوجوان، جس کی شناخت روہت کے نام سے ہوئی ہے، رئیس کے انکار پر دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے: “جے ایس آر بولے گا تُو، دو تین دن میں!”

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1993293211935330559
https://www.instagram.com/reel/DReqnAeAt6e/

رئیس، جو برسوں سے سیاحوں کو تاج محل لے جا کر اپنے گھر کا گزارا کرتے ہیں، اس واقعے میں شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہوئے۔ یہ ویڈیو سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا، جہاں صارفین نے اسے اسلاموفوبیا اور ہندوتوا شدت پسندی کی خطرناک مثال قرار دیا۔ بہت سے لوگوں نے لکھا کہ ایسے واقعات میں زیادہ تر نشانہ کمزور اور غریب مسلمان بنتے ہیں خصوصاً بزرگ مزدور، ڈرائیور، ریڑھی والے اور دیہاڑی دار افراد۔

متعدد شہریوں اور کارکنوں نے ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوانوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ آگرہ پولیس نے مقامی صحافی کی نشاندہی پر ویڈیو کو نوٹ کرتے ہوئے بتایا کہ تاج گنج تھانے اور سائبر سیل کو تفتیش اور ضروری قانونی کارروائی کی ہدایات دے دی گئی ہیں۔ تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں