حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کے ناگول پولیس اسٹیشن حدود میں واقع 400 سالہ قدیم قطب شاہی دور کے قبرستان اور درگاہ حضرت متّو شاہ باباؒ میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں قبروں کو بلڈوزر کے ذریعہ مبینہ طور پر منہدم کرکے زمین برابر کردی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ قبرستان ٹاٹی انارم، عبداللہ پور میٹ منڈل میں واقع ہے اور مسلم آبادی کے لیے نہایت مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب مقامی لوگ قبرستان پہنچے اور متعدد قبروں کو مسمار حالت میں پایا۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ حرکت مبینہ طور پر قریب ہی موجود ایک نجی اسکول کے انتظامیہ کی جانب سے کی گئی، جس کے باعث علاقہ میں شدید بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی اور ناگول پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی۔
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن کونسل مرزا رحمت بیگ قادری، مقامی افراد کے ہمراہ، پولیس اسٹیشن پہنچے اور ایس ایچ او مقبول جانی سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبروں کی بے حرمتی میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے فوری مقدمہ درج کیا جائے اور ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے۔
مرزا رحمت بیگ قادری نے اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’یہ قبرستان قطب شاہی دور کی تاریخی نشانی ہے۔ قبروں کو مسمار کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
اس موقع پر کارپوریٹر حسین پاشاہ (کشن باغ) اور کارپوریٹر عبد الرحمن (کنچن باغ بھی موجود تھے۔ مقامی افراد نے مجلسی لیڈروں کے ساتھ ملکر غیرقانونی حرکت کے خلاف زبردست احتجاج درج کرایا۔
پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے جبکہ مقامی لوگوں نے واضح کیا کہ اگر اس غیرقانونی حرکت کے خلاف سخت قانونی کاروائی نہیں کی گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔


