مہاراشٹرا کا عظیم دینی و ملی ادارہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم فرقہ پرستوں کے آنکھوں میں کھٹکنے لگا: مسلم ادارہ پر بی جے پی لیڈروں اور گودی میڈیا کے بے بنیاد و اشتعال انگیز تبصرے

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے قبائلی اکثریتی ضلع نندربار کے قصبے اکلکوا میں واقع عظیم الشان جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم (JIIU) جو گزشتہ چار دہائیوں سے قوم و ملت کے لئے تعلیم، صحت اور فلاح کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے ایک بار پھر سیاسی اور میڈیا سازشوں کی زد میں ہے۔

بی جے پی کے چند لیڈروں، خصوصاً کریت سومیا اور وجے چودھری کی جانب سے ادارے پر لگائے گئے الزامات کو مقامی عوام، تعلیمی حلقوں اور سماجی شخصیات نے گھٹیا سیاسی پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

حکومتِ مہاراشٹر نے ادارے کے انتظامی معاملات کی نگرانی کیلئے ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا ہے، جو معمول کے عدالتی و سرکاری ضوابط کے تحت املاک اور انتظامی شفافیت کا جائزہ لے گا۔ تاہم اس اقدام کو کچھ سیاسی عناصر نے جان بوجھ کر تنازعہ بنا کر پیش کرنا شروع کردیا۔

بی جے پی لیڈروں کی اشتعال انگیزی
بی جے پی لیڈر کریت سومیا نے جامعہ اور اس سے وابستہ اسپتال کے خلاف پریس کانفرنسوں، ویڈیوز اور دوروں کے ذریعہ متعدد بے بنیاد و سنگین الزامات عائد کئے ہیں جن میں غیر ملکی فنڈنگ میں بے ضابطگیاں، زمین پر قبضہ، جعلی مریضوں کے اعداد و شمار اور مشتبہ داخلے جیسے من گھڑت باتیں شامل ہیں۔

سومیا اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تمام ‘تحقیقات’ صرف ان کے بیانات اور غیر مصدقہ دعوؤں پر مبنی ہیں۔ مقامی حکام نے واضح کیا کہ معاملات زیرِ جانچ ہیں اور کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

اسی طرح بی جے پی کے ریاستی جنرل سکریٹری وجے چودھری نے بھی وہی الزامات دہرائے جن کے ثبوت آج تک سامنے نہیں آئے۔ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں، ممنوعہ تنظیموں کی فنڈنگ اور “مذہب کی تبدیلی” جیسے بے بنیاد الزامات کو ماہرین نے سیاسی اشتعال انگیزی کہا ہے۔

وہیں گودی میڈیا کی من گھڑت رپورٹنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بی جے پی لیڈروں کی جانب سے معاملہ کو غیرضروری ہوا دیے جانے کے بعد گودی میڈیا نے بھی حسبِ روایت بغیر تحقیق کیے سنسنی خیز شوز نشر کرکے مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کے ایجنڈہ پر کارفرما ہے۔ گودی میڈیا، یکطرفہ بحثیں کرکے اور بے بنیاد الزامات کو “تفتیشی رپورٹ” بنا کر پیش کررہا ہے۔

جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم:
* 1979 سے قبائلی علاقے میں بہترین تعلیمی و طبی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
* جدید تعلیم اور ملی خدمات کے لیے ملک بھر میں معروف ہے
* 300 بستروں پر مشتمل نور اسپتال میں غریب مریضوں کا تقریباً مفت علاج ہوتا ہے
* انجینئرنگ، میڈیکل، فارمیسی، بی ایڈ، لا اور دیگر کورسز مہیا کرتا ہے

ایسے ادارے کے خلاف بغیر ثبوت کے اس قدر سنگین الزامات نہ صرف پیشہ ورانہ بددیانتی ہیں بلکہ قبائلی و تعلیمی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

ادارہ اور مقامی عوام کا مؤقف
جامعہ اسلامیہ کے ذمہ داران نے اب تک سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، مگر ادارے سے وابستہ اساتذہ، سابق طلباء اور مقامی قبائلی کمیونٹی نے واضح کیا ہے کہ:
* ادارہ شفاف طریقے سے چلتا ہے
* ہزاروں طلباء کی تعلیم اور زندگی اس منفی مہم کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے
* سیاسی عزائم کی خاطر ادارے کی ساکھ کو ٹھیس پہنچانا ناقابلِ قبول ہے

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ “جو لوگ کبھی اکلکوا نہیں آئے، وہ یہاں کی زمینی حقیقت کیا جانیں؟ ان کا مقصد تحقیق نہیں، صرف نفرت اور فرقہ واریت کو بڑھانا ہے۔”

جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم جیسے ادارے جو برسوں سے تعلیم اور صحت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔

بی جے پی لیڈروں اور گودی میڈیا کی جانب سے بغیر ثبوت کی الزام تراشی نہ صرف صحافتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے سنگین خطرہ بھی ہے۔ کیا اقلیتی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی پرانی سیاست دہرائی جا رہی ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں